تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 28

وَ اِذۡ قَالَ رَبُّکَ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیۡ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿۲۸﴾
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔ En
اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں
En
اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا: ﴿ وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما أراد الله خَلْقَ آدم؛ قال للملائكة: {إنِّي خالقٌ بشراً من صَلْصال من حمإٍ مَسْنونٍ. فإذا سوَّيْتُه}: جسداً تامًّا، {ونفختُ فيه من روحي فَقَعُوا له ساجدينَ}.