تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 18

اِلَّا مَنِ اسۡتَرَقَ السَّمۡعَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸﴾
مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ En
ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے
En
ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دہکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ مگر جو چوری سے سن بھاگا یعنی بعض اوقات، کبھی کبھار کوئی شیطان سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے ﴿ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ تو چمکتا ہوا انگارا اس کے پیچھے لپکتا ہے۔ یعنی ایک روشن ستارہ اس کا پیچھا کر کے اس کو قتل کر دیتا ہے یا اسے سن گن لینے سے روک دیتا ہے اور کبھی کبھی یہ شہاب ثاقب اس شیطان کو اپنے دوست کے پاس پہنچنے سے پہلے جا لیتا ہے اور آسمان کی خبر زمین پر جانے سے روک دیتا ہے۔ بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ شہاب ثاقب کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ آسمانی خبر اپنے دوست کو القا کر دیتا ہے۔ پس وہ شخص اس میں سو جھوٹ ملا کر بیان کرتا ہے اور وہ کلام جو اس نے آسمان سے سنا ہوتا ہے اس سے استدلال کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلا من استرق السمع}؛ أي: [إلاّ] في بعض الأوقات قد يسترق بعضُ الشياطين السمع بخفية واختلاس. {فأتْبَعَهُ شهابٌ مبينٌ}؛ أي: بيِّن منير يقتله أو يخبله؛ فربما أدركه الشهاب قبل أن يوصِلَها الشيطان إلى وليِّه فينقطع خبر السماء عن الأرض، وربَّما ألقاها إلى وليِّه قبل أن يدرِكَه الشهاب، فيضمُّها، ويكذبُ معها مائة كذبة، ويستدلُّ بتلك الكلمة التي سُمعت من السماء.