تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالْاَرْضَمَدَدْنٰهَا ﴾”اور زمین کو ہم نے پھیلایا“ یعنی ہم نے زمین کو نہایت وسیع اور کشادہ بنایا ہے تاکہ انسانوں اور حیوانوں کی اس وسیع و عریض زمین کے کناروں تک رسائی، اس سے وافر مقدار میں رزق کا حصول اور اس کے اطراف و جوانب میں سکونت آسان ہو۔ ﴿ وَاَلْقَیْنَافِیْهَارَوَاسِیَ ﴾”اور اس پر پہاڑ رکھ دیے۔“ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اللہ کے حکم سے زمین کی حفاظت کرتے ہیں کہ کہیں وہ جھک نہ جائے اور وہ زمین کو جمائے رکھتے ہیں کہ کہیں وہ ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَاَنْۢـبَتْنَافِیْهَامِنْكُ٘لِّشَیْءٍمَّوْزُوْنٍ ﴾”اور اگائی اس میں ہر چیز اندازے سے“ یعنی فائدہ مند اور درست چیز جس کے لوگ اور بستیاں ضرورت مند ہوتی ہیں، مثلاً: کھجور، انگور، مختلف اصناف کے درخت، انواع و اقسام کی نباتات اور معدنیات۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والأرض مددناها}؛ أي: وسعناها سعة يتمكَّن الآدميون والحيوانات كلُّها من الامتداد بأرجائها والتناول من أرزاقها والسكونِ في نواحيها. {وألقَيْنا فيها رواسيَ}؛ أي: جبالاً عظاماً تحفظ الأرض بإذن الله أن تميدَ وتثبِّتها أن تزول. {وأنبَتْنا فيها من كلِّ شيءٍ موزونٍ}؛ أي: نافع متقوَّم يضطرُّ إليه العباد والبلاد ما بين نخيل وأعناب وأصناف الأشجار وأنواع النبات والمعادن.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔