اور جب تمھارے رب نے صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا اور بے شک اگر تم نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب یقینا بہت سخت ہے۔
En
اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے
اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاه کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیاده دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی نعمتوں پر شکر کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِذْتَاَذَّنَرَبُّكُمْ ﴾”جب تمھارے رب نے آگاہ کیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا اور وعدہ کیا ﴿ لَىِٕنْشَكَرْتُمْلَاَزِیْدَنَّـكُمْ ﴾”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ دوں گا“ یعنی اپنی نعمتوں میں اضافہ کروں گا ﴿ وَلَىِٕنْكَفَرْتُمْاِنَّعَذَابِیْلَشَدِیْدٌ ﴾”اور اگر تم نے کفر کیا تو میرا عذاب نہایت سخت ہے“ عذاب کی ایک صورت یہ ہے کہ وہ ان نعمتوں کو زائل کر دے جو انھیں عطا کی تھیں۔ شکر سے مراد، دل سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا، ان نعمتوں پر دل سے اس کی حمد و ثنا کرنا اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرنا ہے۔ اور ان امور کے برعکس رویہ اختیار کرنا، کفران نعمت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال لهم حاثًّا على شكر نعم الله: {وإذْ تأذَّن ربُّكم}؛ أي: أعلم ووعد، {لئن شكرتُم لأزيدنَّكم}: من نعمي، {ولئن كفرتُم إن عذابي لشديدٌ}: ومن ذلك أنْ يزيل عنهم النعمة التي أنعم بها عليهم. والشكرُ: هو اعتراف القلب بنعم الله، والثناء على الله بها، وصرفها في مرضاة الله تعالى. وكفر النعمة ضدُّ ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔