تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَقَالَمُوْسٰۤىاِنْتَكْ٘فُرُوْۤااَنْتُمْوَمَنْفِیالْاَرْضِجَمِیْعًا﴾”موسیٰ نے کہا، اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں، سارے کفر کریں۔“ تو تم اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ﴿ فَاِنَّاللّٰهَلَغَنِیٌّحَمِیْدٌ ﴾”بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے سب خوبیوں والا“ پس نیکیاں اس کی بادشاہی میں اضافہ کر سکتی ہیں نہ گناہ اس کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع کر سکتے ہیں، وہ غنا میں کامل ہے، وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں قابل حمد و ستائش ہے اس کی ہر صفت، صفت حمد و کمال ہے۔ اس کا ہر نام اچھا نام ہے اور اس کا ہر فعل، فعل جمیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال موسى إن تكفُروا أنتم ومن في الأرض جميعاً}: فلن تضرُّوا الله شيئاً، فإنَّ الله غنيٌ حميدٌ، فالطاعات لا تزيد في ملكه، والمعاصي لا تنقصه، وهو كامل الغنى، حميدٌ في ذاته وأسمائه وصفاته وأفعاله، ليس له من الصفات إلا كل صفة حمدٍ وكمال، ولا من الأسماء إلا كل اسم حسن، ولا من الأفعال إلاَّ كل فعل جميل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔