تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 8

وَ قَالَ مُوۡسٰۤی اِنۡ تَکۡفُرُوۡۤا اَنۡتُمۡ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰہَ لَغَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۸﴾
اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بے شک اللہ یقینا بڑا بے پروا، بے حد تعریف والا ہے۔ En
اور موسیٰ نے (صاف صاف) کہہ دیا کہ اگر تم اور جتنے اور لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو خدا بھی بےنیاز (اور) قابل تعریف ہے
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم سب اور روئے زمین کے تمام انسان اللہ کی ناشکری کریں تو بھی اللہ بے نیاز اور تعریفوں واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَقَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْ٘فُرُوْۤا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا موسیٰ نے کہا، اگر تم اور جو لوگ زمین میں ہیں، سارے کفر کریں۔ تو تم اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے سب خوبیوں والا پس نیکیاں اس کی بادشاہی میں اضافہ کر سکتی ہیں نہ گناہ اس کی بادشاہی میں کوئی کمی واقع کر سکتے ہیں، وہ غنا میں کامل ہے، وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں قابل حمد و ستائش ہے اس کی ہر صفت، صفت حمد و کمال ہے۔ اس کا ہر نام اچھا نام ہے اور اس کا ہر فعل، فعل جمیل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقال موسى إن تكفُروا أنتم ومن في الأرض جميعاً}: فلن تضرُّوا الله شيئاً، فإنَّ الله غنيٌ حميدٌ، فالطاعات لا تزيد في ملكه، والمعاصي لا تنقصه، وهو كامل الغنى، حميدٌ في ذاته وأسمائه وصفاته وأفعاله، ليس له من الصفات إلا كل صفة حمدٍ وكمال، ولا من الأسماء إلا كل اسم حسن، ولا من الأفعال إلاَّ كل فعل جميل.