اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو، جب اس نے تمھیں فرعون کی آل سے نجات دی، جو تمھیں برا عذاب دیتے تھے اور تمھارے بیٹے بری طرح ذبح کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
En
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نے جو تم پر مہربانیاں کی ہیں ان کو یاد کرو جب کہ تم کو فرعون کی قوم (کے ہاتھ) سے مخلصی دی وہ لوگ تمہیں بُرے عذاب دیتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور عورت ذات یعنی تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی
جس وقت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کے وه احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کیے ہیں، جبکہ اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بڑے دکھ پہنچاتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زنده چھوڑتے تھے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بہت بڑی آزمائش تھی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور ان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا ﴿ اذْكُرُوْانِعْمَةَاللّٰهِعَلَیْكُمْ ﴾”اللہ نے تم پر جو انعامات کیے ہیں ان کو یاد کرو۔“ یعنی اپنے دل اور زبان سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ ﴿ اِذْاَنْجٰؔىكُمْمِّنْاٰلِفِرْعَوْنَیَسُوْمُوْنَكُمْ۠ ﴾”جب اس نے تمھیں فرعونیوں سے بچایا، وہ چکھاتے تھے تمھیں “ یعنی تمھیں عذاب دیتے تھے ﴿ سُوْٓءَالْعَذَابِ ﴾”برے عذاب“ یعنی سخت ترین عذاب، پھر اس عذاب کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَیُذَبِّحُوْنَاَبْنَآءَكُمْوَیَسْتَحْیُوْنَنِسَآءَكُمْ﴾”اور وہ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے“ یعنی وہ تمھاری عورتوں کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ ان کو زندہ رکھتے تھے ﴿ وَفِیْذٰلِكُمْ ﴾”اور اس میں “ یعنی اس نجات میں ﴿ بَلَآءٌمِّنْرَّبِّكُمْعَظِیْمٌ ﴾”تمھارے رب کی طرف سے عظیم نعمت تھی۔“ یعنی عظیم نعمت تھی یا (اس کا معنیٰ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ) اس عذاب میں جس میں تمھیں فرعون اور اس کے سرداروں نے مبتلا کیا تھا، تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی تاکہ وہ دیکھے کہ آیا تم اس سے عبرت حاصل کرتے ہو یا نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا امتثل موسى عليه السلام أمر ربِّه، فذكَّرهم نعم الله، فقال: {اذكروا نعمة الله عليكم}؛ أي: بقلوبكم وألسنتكم، {إذ أنجاكم من آل فرعونَ يسومونكم}؛ أي: يُولُونكم، {سوء العذاب}؛ أي: أشده. وفسَّر ذلك بقوله: {ويذبِّحون أبناءكم ويَسْتَحْيون نساءكم}؛ أي: يبقونهنَّ فلا يقتلونهنَّ. {وفي ذلكم}: الانجاء {بلاءٌ من ربِّكم عظيمٌ}؛ أي: نعمة عظيمة، أو وفي ذلكم العذاب الذي ابتُليتم به من فرعون وملئه ابتلاءٌ من الله عظيمٌ لكم لينظر هل تصبرون أم لا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔