تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 36

رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضۡلَلۡنَ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ ۚ فَمَنۡ تَبِعَنِیۡ فَاِنَّہٗ مِنِّیۡ ۚ وَ مَنۡ عَصَانِیۡ فَاِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۶﴾
اے میرے رب! بے شک انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا، پھر جو میرے پیچھے چلا تو یقینا وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا توُ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ En
اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے
En
اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راه سے بھٹکا دیا ہے۔ پس میری تابعداری کرنے واﻻ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو بہت ہی معاف اور کرم کرنے واﻻ ہے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں ان خدشات کا ذکر فرمایا جو انھیں اکثر لوگوں کے ان بتوں کی عبادت کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئے، اس لیے انھوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا ﴿ رَبِّ اِنَّ٘هُنَّ اَضْلَلْ٘نَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ اے پروردگار! انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ یعنی ان کے سبب سے بہت سے لوگ گمراہ ہوئے۔ ﴿ فَ٘مَنْ تَبِعَنِیْ پس جس نے میری اتباع کی۔ یعنی توحید الٰہی اور اخلاص للہ میں جس نے میری پیروی کی۔ ﴿ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ تو وہ میرا ہے۔ یعنی کامل موافقت کی وجہ سے وہ مجھ سے ہے، جو کوئی جس قوم سے محبت کرتا ہے اور اس کی پیروی کرتا ہے، وہ اسی قوم سے ملحق شمار ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بہت بخشنے والا مہربان ہے یہ حضرت خلیل علیہ السلام کی شفقت ہے کہ انھوں نے گناہ گاروں کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ صرف اسے عذاب دے گا جو سرکشی اختیار کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر الموجب لخوفه عليه وعلى بنيه بكثرة مَن افتتن وابتُلِيَ بعبادتها. فقال: {ربِّ إنهنَّ أضْلَلْنَ كثيراً من الناس}؛ أي: ضلوا بسببها، {فمن تَبِعَنِي}: على ما جئتُ به من التوحيد والإخلاص لله ربِّ العالمين {فإنَّه منِّي}: لتمام الموافقة، ومن أحبَّ قوماً وتبعهم؛ التحق بهم. {ومَنْ عصاني فإنَّك غفورٌ رحيم}: وهذا من شفقة الخليل عليه الصلاة والسلام؛ حيث دعا للعاصين بالمغفرة والرحمة من الله، والله تبارك وتعالى أرحمُ منه بعباده، لا يعذِّب إلاَّ من تمرَّد عليه.