اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی کچھ اولاد کو اس وادی میں آباد کیا ہے، جو کسی کھیتی والی نہیں، تیرے حرمت والے گھر کے پاس، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ سو کچھ لوگوں کے دل ایسے کر دے کہ ان کی طرف مائل رہیں اور انھیں پھلوں سے رزق عطا کر، تاکہ وہ شکر کریں۔
En
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں
اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اوﻻد اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لیے کہ وه نماز قائم رکھیں، پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما تاکہ یہ شکر گزاری کریں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ رَبَّنَاۤاِنِّیْۤاَسْكَنْتُمِنْذُرِّیَّتِیْبِوَادٍغَیْرِذِیْزَرْعٍعِنْدَبَیْتِكَالْمُحَرَّمِ﴾”اے رب! میں نے بسایا ہے اپنی ایک اولاد کو، ایسے میدان میں جہاں کھیتی نہیں، تیرے محترم گھر کے پاس“ یعنی آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو شام سے لا کر مکہ مکرمہ کی سرزمین میں بسایا تھا، اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام دودھ پیتے تھے۔اس وقت یہ وادی بالکل سنسان تھی اور اس میں کوئی آبادی نہ تھی۔ جب آپ نے ماں بیٹے کو اس وادی میں آباد کر دیا تو اس وقت یہ دعا مانگی ﴿ رَبَّنَاۤاِنِّیْۤاَسْكَنْتُمِنْذُرِّیَّتِیْ ﴾ یعنی میں نے اپنی تمام اولاد کو نہیں بلکہ اپنی کچھ اولاد کو یہاں لا بسایا ہے۔ کیونکہ حضرت اسحاق علیہ السلام شام میں تھے اسی طرح ان کے دیگر بیٹے بھی شام میں آباد تھے۔ وادی مکہ میں انھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی اولاد کو آباد کیا۔
﴿ بِوَادٍغَیْرِذِیْزَرْعٍ ﴾”ایسی وادی میں جہاں کھیتی نہیں۔“ کیونکہ ارض مکہ بے آب و گیاہ تھی ﴿ رَبَّنَالِیُقِیْمُواالصَّلٰوةَ ﴾”اے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں “ یعنی ان کو موحد اور نماز قائم کرنے والے بنا کیونکہ نماز سب سے زیادہ خصوصیت کی حامل اور سب سے افضل عبادت ہے اور جس نے نماز کو قائم کر لیا، وہ دین کو قائم کرنے والا ہوگیا۔ ﴿ فَاجْعَلْاَفْىِٕدَةًمِّنَالنَّاسِتَهْوِیْۤاِلَیْهِمْ ﴾”پس کر دے کچھ لوگوں کے دل کہ مائل ہوں ان کی طرف“ یعنی لوگ ان سے محبت کریں اور اس جگہ سے محبت کریں جہاں یہ آباد ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کو دین اسلام اور ملت ابراہیم کی طرف دعوت دی انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور نماز قائم کرنے والے بن گئے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی زیارت کو فرض قرار دیا جس کے پاس ابراہیم علیہ السلام کی اولاد آباد تھی اور اس میں ایک ایسا بھید پنہاں رکھا جو دلوں کے لیے کشش رکھتا ہے، دل اس گھر کی زیارت کا قصد کرتے ہیں اور اس کی زیارت سے کبھی سیر نہیں ہوتے بلکہ بندۂ مومن جس قدر زیادہ اس گھر کی زیارت کرتا ہے اس کی آتش شوق اسی قدر زیادہ بھڑکتی ہے اور اس کا سرنہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف مضاف کیا ہے۔ ﴿وَارْزُقْهُمْمِّنَالثَّ٘مَرٰتِلَعَلَّهُمْیَشْكُرُوْنَ ﴾”اور ان کو روزی دے پھلوں سے، شاید وہ شکر کریں “ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت خلیل علیہ السلام کی دعا قبول فرما لی اور ہر قسم کا پھل اس ارض پاک میں پہنچنے لگا۔ آپ دیکھیں گے کہ مکہ مشرفہ میں ہر وقت ہر قسم کا پھل بافراط ملتا ہے اور رزق ہر طرف سے مکہ مکرمہ کی طرف کھنچا چلا آتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ربَّنا إني أسكنتُ من ذُرِّيَّتي بوادٍ غير ذي زرع عند بيتِكَ المحرَّم}: وذلك أنَّه أتى بهاجر أم إسماعيل وبابنها إسماعيل عليه الصلاة والسلام وهو في الرَّضاع من الشام حتى وضعهما في مكة، وهي إذ ذاك ليس فيها سكنٌ ولا داعٍ ولا مجيب، فلما وضعهما؛ دعا ربَّه بهذا الدعاء، فقال متضرِّعاً متوكِّلاً على ربِّه: رب {إني أسكنتُ من ذُرِّيَّتي}؛ أي: لا كل ذُرِّيَّتي؛ لأنَّ إسحاق في الشام وباقي بنيه كذلك، وإنما أسكن في مكة إسماعيل وذريته. وقوله: {بواد غير ذي زَرْع}؛ أي: لأن أرض مكة لا تصلح للزراعة. {ربَّنا لِيقيموا الصلاةَ}؛ أي: اجعلهم موحِّدين مقيمين الصلاة؛ لأنَّ إقامة الصلاة من أخصِّ وأفضل العبادات الدينيَّة؛ فمنْ أقامها كان مقيماً لدينه. {فاجْعَلْ أفئدةً من الناس تَهْوي إليهم}؛ أي: تحبُّهم وتحبُّ الموضع الذي هم ساكنون فيه. فأجاب الله دعاءه، فأخرج من ذريَّة إسماعيل محمداً - صلى الله عليه وسلم -، حتى دعا ذرِّيَّته إلى الدين الإسلاميِّ وإلى ملَّة أبيهم إبراهيم، فاستجابوا له وصاروا مقيمي الصلاة. وافترض الله حجَّ هذا البيت الذي أسكن به ذريَّته إبراهيم، وجعل فيه سرًّا عجيباً جاذباً للقلوب؛ فهي تحجُّه ولا تقضي منه وطراً على الدوام، بل كلَّما أكثر العبدُ التردُّد إليه؛ ازداد شوقُه وعظُم وَلَعُه وتَوْقُه، وهذا سرُّ إضافته تعالى إلى نفسه المقدسة. {وارزُقْهم من الثمرات لعلَّهم يشكرون}: فأجاب الله دعاءه، فصار يُجبى إليه ثمرات كل شيء؛ فإنك ترى مكة المشرفة كلَّ وقت، والثمارُ فيها متوفِّرة، والأرزاق تتوالى إليها من كل جانب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔