تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 35

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ رَبِّ اجۡعَلۡ ہٰذَا الۡبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجۡنُبۡنِیۡ وَ بَنِیَّ اَنۡ نَّعۡبُدَ الۡاَصۡنَامَ ﴿ؕ۳۵﴾
اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ En
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ
En
(ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا کہ اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن واﻻ بنادے، اور مجھے اور میری اوﻻد کو بت پرستی سے پناه دے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَ اور۔ یعنی اس حالت جمیلہ میں ابراہیم علیہ السلام کو یاد کیجیے ﴿ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰؔذَا الْبَلَدَ جب ابراہیم نے کہا، اے رب! بنا دے اس شہر کو یعنی حرم مبارک کو ﴿ اٰمِنًا امن والا پس اللہ تعالیٰ نے شرعاً اور قدراً آپ کی دعا قبول فرمائی اور اس کی حرمت کے اسباب میسر فرمائے جو کہ ہمیں معلوم ہیں حتیٰ کہ اگر کوئی ظالم حرم میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قلع قمع کر دیتا ہے جیسے اصحاب فیل کے ساتھ کیا تھا… ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لیے، اپنے بیٹوں کے لیے اور اس ارض محترم کے لیے امن کی دعا کی، چنانچہ فرمایا ﴿ وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ اور مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے دور رکھ یعنی ان کے قریب جانے سے بچا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {و} اذكُرْ إبراهيم عليه الصلاة والسلام في هذه الحالة الجميلة. {إذ قال إبراهيم ربِّ اجعل هذا البلد}؛ أي: الحرم {آمناً}: فاستجاب الله دعاءه شرعاً وقدراً، فحرمه الله في الشرع، ويسَّر من أسباب حرمته قَدَراً ما هو معلوم، حتى إنه لم يردْه ظالمٌ بسوءٍ إلاَّ قصمه الله؛ كما فعل بأصحاب الفيل وغيرهم. ولما دعا له بالأمن؛ دعا له ولبنيه بالأمن، فقال: {واجْنُبْني وبَنِيَّ أن نعبُدَ الأصنام}؛ أي: اجعلني وإيَّاهم جانباً بعيداً عن عبادتها والإلمام بها.