تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 34

وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾
اور تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بلاشبہ انسان یقینا بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔ En
اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے
En
اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے۔ اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے۔ یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُ٘لِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا یعنی اس نے تمھیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمھاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو، مثلاً: مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات و صناعات وغیرہ۔ ﴿ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو توتم شمار نہ کرسکو۔ یعنی تمھارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ یقینا انسان نہایت نادان، بہت بے شکرا ہے یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی جسارت کرنے والا، اپنے رب کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر وہی ادا کر سکتا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ راہ نمائی کرے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، اپنے رب کے حق کو پہچانتا ہے اور اسے قائم کرتا ہے۔
پس ان آیات کریمہ میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بہت سی اصناف مجمل اورمفصل طور پر بیان ہوئی ہیں …اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا ذکر اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دن رات اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور اس سے دعا مانگتے رہیں جیسے ہر وقت بتکرار ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا فیضان رہتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وآتاكم من كلِّ ما سألتُموه}؛ أي: أعطاكم من كلِّ ما تعلَّقت به أمانيكم وحاجتكم مما تسألونه إيَّاه بلسان الحال أو بلسان المقال من أنعام وآلاتٍ وصناعاتٍ وغير ذلك. {وإن تَعُدُّوا نعمة الله لا تُحْصوها}: فضلاً عن قيامكم بشكرها. {إنَّ الإنسان لظلومٌ كفَّارٌ}؛ أي: هذه طبيعة الإنسان من حيثُ هو ظالمٌ متجرِّئٌ على المعاصي مقصِّرٌ في حقوق ربِّه، كفَّار لنعم الله لا يشكرها ولا يعترفُ بها؛ إلاَّ مَن هداه الله فشَكَرَ نِعَمَهُ، وعَرَفَ حقَّ ربِّه وقام به.

ففي هذه الآيات من أصناف نعم الله على العباد شيءٌ عظيمٌ مجملٌ ومفصَّلٌ يدعو الله به العباد إلى القيام بشكره وذكره، ويحثُّهم على ذلك، ويرغِّبهم في سؤاله ودعائه آناء الليل والنهار؛ كما أنَّ نعمته تتكرَّر عليهم في جميع الأوقات.