ترجمہ و تفسیر — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 34

وَ اٰتٰىکُمۡ مِّنۡ کُلِّ مَا سَاَلۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ لَا تُحۡصُوۡہَا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَظَلُوۡمٌ کَفَّارٌ ﴿٪۳۴﴾
اور تمھیں ہر اس چیز میں سے دیا جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمت شمار کرو تو اسے شمار نہ کر پائو گے۔ بلاشبہ انسان یقینا بڑا ظالم، بہت ناشکرا ہے۔ En
اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ (مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے) کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے
En
اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے۔ اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے۔ یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت34) ➊ {وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ:} یعنی یہ سب کچھ اور بہت کچھ تمھارے مانگے بغیر دیا۔ علاوہ ازیں جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے بھی جتنا چاہا اس نے تمھیں دیا۔{ مِنْ } تبعیضیہ ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ زبان حال یا قال سے تم نے جو مانگا، یعنی اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے تمھاری حالت جو تقاضا کرتی تھی اور جو بھی تمھاری ضرورت ہو سکتی تھی اس نے اس میں سے جتنا چاہا تمھیں دیا۔
➋ {وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا:} یعنی مختصر طور پر بھی نہیں گن سکو گے، کجا یہ کہ تم لا محدود نعمتوں کو شمار کر سکو، تو سوچو تم اس کا شکر کس طرح ادا کر سکتے ہو۔ (شوکانی) { كَفَّارٌ } بہت ناشکرا۔ {اَحْصٰي يُحْصِيْ اِحْصَاءً} (افعال) شمار کرنا، کیونکہ {اَلْحَصٰي} کا معنی کنکری ہے اور عرب کنکریوں کے ذریعے سے شمار کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ کنکریوں سے محدود شمار ہی ہو سکتا ہے۔
➌ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ:} انسان پر اللہ تعالیٰ کے کتنے احسانات ہیں اور ہر آن ہوتے رہتے ہیں، مگر وہ ہے کہ ذرا تکلیف پہنچتی ہے تو ناشکری پر اتر آتا ہے۔ { لَظَلُوْمٌ } سے یہی مراد ہے، یا { الْاِنْسَانَ } میں الف لام عہد کا ہے اور مراد کافر انسان ہے کہ وہ اللہ کا حق دوسروں کو دے کر، یعنی غیر اللہ کی عبادت کرکے بہت بڑا ظلم کر رہا ہے۔ فرمایا: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ [لقمان: ۱۳]بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ ظلم کا معنی ہے { وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهِ} کہ کسی چیز کو اس کی جگہ کے علاوہ رکھ دینا۔ تو کافر انسان اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے نہ اس کی عبادت کرتا ہے نہ اطاعت بلکہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو مخلوق کے احسانات شمار کرتا ہے، کبھی کسی کو جھولی بھرنے والا کہتا ہے، کبھی کسی کو داتا کہتا ہے، کبھی کسی کو دستگیر، کبھی کسی کو مشکل کشا۔{ الْاِنْسَانَ } سے مراد یہاں کافر انسان ہونے کی دلیل اس سلسلۂ آیات کی ابتدا بھی ہے، فرمایا: «{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ (28) جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَ بِئْسَ الْقَرَارُ [إبراہیم: ۲۸، ۲۹] کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا، جہنم میں، وہ اس میں داخل ہوں گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔ یہ اس کی زبردست ناشکری ہے۔ اے کافر انسان! افسوس تیری اس کافری اور ناشکری پر۔ کاش! تو اپنے اصل داتا اور دستگیر کا احسان مانتا، اسی کا شکر ادا کرتا:
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

34۔ 1 یعنی اس نے تمہاری ضرورت کی تمام چیزیں مہیا کیں جو تم اس سے طلب کرتے ہو، وہ بھی دیتا ہے اور جسے نہیں مانگتے، لیکن اسے پتہ ہے کہ وہ تمہاری ضرورت ہے، وہ بھی دے دیتا ہے۔ غرض تمہیں زندگی گزارنے کی تمام سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ 34۔ 2 یعنی اللہ کی نعمتیں ان گنت ہیں انھیں کوئی شمار میں نہیں لاسکتا۔ چہ جائیکہ کوئی ان نعمتوں کے شکر کا حق ادا کرسکے۔ ایک اثر میں حضرت داؤد ؑ کا قول نقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ' اے رب! میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں؟ جب کہ شکر بجائے خود تیری طرف سے مجھ پر ایک نعمت ہے ' اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اے داؤد اب تو نے میرا شکر ادا کردیا جب کہ تو نے اعتراف کرلیا کہ یا اللہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں ' (تفسیر ابن کثیر) 34۔ 3 اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے غفلت کی وجہ سے انسان اپنے نفس کے ساتھ ظلم اور بےانصافی کرتا ہے۔ بالخصوص کافر، جو بالکل ہی اللہ سے غافل ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ اور جو کچھ بھی تم نے اللہ سے مانگا وہ اس نے تمہیں دیا۔ اور اگر اللہ کی نعمتیں گننا چاہو تو کبھی ان کا حساب نہ رکھ سکو گے۔ انسان تو ہے ہی بے انصاف اور ناشکرا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُ٘لِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ اور دیا تم کو ہر چیز میں سے جو تم نے مانگا یعنی اس نے تمھیں ہر وہ چیز عطا کی جس کے ساتھ تمھاری آرزوئیں اور ضرورتیں وابستہ ہیں جو تم اپنی زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہو، مثلاً: مال مویشی، مختلف اقسام کے آلات و صناعات وغیرہ۔ ﴿ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو توتم شمار نہ کرسکو۔ یعنی تمھارا ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا تو کجا، تم ان کو شمار بھی نہیں کر سکتے ﴿ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ یقینا انسان نہایت نادان، بہت بے شکرا ہے یہ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کیونکہ وہ نہایت ظالم، معاصی کے ارتکاب کی جسارت کرنے والا، اپنے رب کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف اور اس کا شکر وہی ادا کر سکتا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ راہ نمائی کرے۔ تب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، اپنے رب کے حق کو پہچانتا ہے اور اسے قائم کرتا ہے۔
پس ان آیات کریمہ میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بہت سی اصناف مجمل اورمفصل طور پر بیان ہوئی ہیں …اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کا ذکر اور اس کا شکر ادا کریں اور وہ ان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دن رات اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے اور اس سے دعا مانگتے رہیں جیسے ہر وقت بتکرار ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا فیضان رہتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وآتاكم من كلِّ ما سألتُموه}؛ أي: أعطاكم من كلِّ ما تعلَّقت به أمانيكم وحاجتكم مما تسألونه إيَّاه بلسان الحال أو بلسان المقال من أنعام وآلاتٍ وصناعاتٍ وغير ذلك. {وإن تَعُدُّوا نعمة الله لا تُحْصوها}: فضلاً عن قيامكم بشكرها. {إنَّ الإنسان لظلومٌ كفَّارٌ}؛ أي: هذه طبيعة الإنسان من حيثُ هو ظالمٌ متجرِّئٌ على المعاصي مقصِّرٌ في حقوق ربِّه، كفَّار لنعم الله لا يشكرها ولا يعترفُ بها؛ إلاَّ مَن هداه الله فشَكَرَ نِعَمَهُ، وعَرَفَ حقَّ ربِّه وقام به.

ففي هذه الآيات من أصناف نعم الله على العباد شيءٌ عظيمٌ مجملٌ ومفصَّلٌ يدعو الله به العباد إلى القيام بشكره وذكره، ويحثُّهم على ذلك، ويرغِّبهم في سؤاله ودعائه آناء الليل والنهار؛ كما أنَّ نعمته تتكرَّر عليهم في جميع الأوقات.