الَّذِیۡنَ یَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۳﴾
وہ جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں، یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔
En
جو آخرت کی نسبت دنیا کو پسند کرتے اور (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکتے اور اس میں کجی چاہتے ہیں۔ یہ لوگ پرلے سرے کی گمراہی میں ہیں
En
جو آخرت کے مقابلے میں دنیوی زندگی کو پسند رکھتے ہیں اور اللہ کی راه سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت3) ➊ { الَّذِيْنَ يَسْتَحِبُّوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ: ” يَسْتَحِبُّوْنَ “} سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی اللہ تعالیٰ کو تو آخرت کے مقابلے میں دنیا کو محبوب رکھنا ہی پسند نہیں جبکہ یہ کفار آخرت کے مقابلے میں دنیا کو بہت زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دنیا کی چیزوں سے محبت اس وقت بربادی کا باعث ہے جب وہ اللہ کی محبت کے مقابلے میں غالب ہو، ورنہ دنیا سے فائدہ مومن کے لیے بھی جائز ہے، بلکہ اللہ کی محبت کے تحت اور اس کے احکام کے تحت اپنے بیوی بچوں، دوستوں اور مال وغیرہ سے محبت فطری چیز ہے اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے اجر ملتا ہے۔ اس کے برعکس رہبانیت اس فطرت سے جنگ ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔
➋ {وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ کی راہ جو بالکل سیدھی اور بے عیب ہے، کافر اس میں عیب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ٹیڑھی بتاتے ہیں، تاکہ لوگوں کو اس کے اختیار کرنے سے باز رکھ سکیں۔ (ابن کثیر)
➋ {وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ …:} یعنی اللہ کی راہ جو بالکل سیدھی اور بے عیب ہے، کافر اس میں عیب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے ٹیڑھی بتاتے ہیں، تاکہ لوگوں کو اس کے اختیار کرنے سے باز رکھ سکیں۔ (ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات میں لوگوں کو بدظن کرنے کے لئے میں میکھ نکالتے اور انھیں مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اپنی اغراض و خواہشات کے مطابق اس میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں۔ 3۔ 2 اس لئے کہ ان میں مزکورہ متعدد خرابیاں جمع ہوگئی ہیں۔ مثلاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینا، اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنا اور اسلام میں کجی تلاش کرنا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند [2] کرتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں (اپنی خواہشوں کے مطابق) ٹیڑھ پیدا [3] کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ گمراہی میں دور تک نکل گئے ہیں
[2] قرآن کی رو سے کافر کون کون ہیں؟
یعنی جن کی تمام تر کوششیں دنیوی مفادات اور ان کے حصول میں لگی ہوئی ہیں آخرت کی انھیں کچھ فکر نہیں۔ وہ دنیا کے لئے آخرت کی کامیابیوں اور خوشحالیوں کو تو قربان کرنے پر تیار ہیں لیکن آخرت کی فلاح و نجات حاصل کرنے کی خاطر اس دنیا کا کوئی نقصان برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ پھر ان کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی انھیں دنیوی مفادات کی ترغیب دے کر اللہ کی راہ کی طرف نہ آنے دیں یا راہ حق کی طرف چلنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے اور انھیں اپنے ظلم اور زیادتیوں کا نشانہ بناتے ہیں یا اسی قرآن میں سے گمراہی کی راہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے کافروں کو تباہ کن عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
[3] اللہ کی راہ میں کجی کی صورتیں:۔
یہ خطاب سب کے لیے عام ہے خواہ کافر ہوں یا مسلم۔ ٹیڑھ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کا حکم اپنی مرضی کے مطابق ہو اسے تو تسلیم کر لیا جائے اور جو مرضی کے مطابق نہ ہو اسے یا تو چھوڑ دیا جائے یا اس کا انکار کر دیا جائے اور یا اس کی تاویل کر کے اللہ کے حکم کو اپنی خواہش کے مطابق ڈھال لیا جائے اور اس ٹیڑھ کو اختیار کرنے کے عام طور پر دو ہی سبب ہوتے ہیں ایک اتباع ہوائے نفس اور دوسرے موجودہ زمانہ کے نظریات سے مرعوبیت۔ اور اس مرض کا شکار عوام سے زیادہ علمائے سوء ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اکثر اوقات گمراہی کی اس انتہاء کو جا پہنچتے ہیں جہاں سے ان کی واپسی نا ممکن ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ ﴾ ”وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں آخرت پر“ پس وہ دنیا پر راضی اور مطمئن ہو کر آخرت سے غافل ہو گئے۔ ﴿وَیَصُدُّوْنَ ﴾ ”اور (لوگوں کو) روکتے ہیں “ ﴿ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﴾ ”اللہ کے راستے سے“ وہ راستہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر فرمایا ہے اور اسے اپنی کتابوں میں اور اپنے رسولوں کی زبان پر خوب بیان کر دیا ہے مگر یہ لوگ اپنے آقاومولا کے مقابلے میں عداوت و محاربت کا اظہار کرتے ہیں ﴿ وَیَبْغُوْنَهَا ﴾ ”اور تلاش کرتے ہیں اس میں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ﴿عِوَجًا﴾ ”کجی“ یعنی وہ اس راستے کو خراب کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کے خلاف نفرت پیدا ہو جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو پورا کر کے رہے گا خواہ کفار کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا وصف بیان کیا گیا ہے ﴿ فِیْ ضَلٰلٍۭؔ بَعِیْدٍ﴾ ”دور کی گمراہی میں ہیں “ کیونکہ وہ خود گمراہ ہوئے، لوگوں کو گمراہ کیا، انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جنگ کی۔ پس اس سے بڑھ کر اور کون سی گمراہی ہے؟ لیکن اہل ایمان کا معاملہ اس کے برعکس ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں، دنیا پر آخرت کو ترجیح دیتے ہیں، وہ لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ امکان بھر اس راستے کو خوبصورت بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ سیدھا رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم وصفهم بأنهم الذين استحبوا {الحياة الدُّنيا على الآخرة}: فرضوا بها واطمأنوا وغفلوا عن الدار الآخرة. {ويصدُّون} الناس {عن سبيل الله}: التي نَصَبها لعباده وبيَّنها في كتبه وعلى ألسنة رسله؛ فهؤلاء قد نابَذوا مولاهم بالمعاداة والمحاربة. {ويَبْغونها}؛ أي: سبيل الله {عوجاً}؛ أي: يحرصون على تهجينها وتقبيحها للتنفير عنها، ولكن يأبى الله إلا أن يُتِمَّ نوره ولو كره الكافرون. {أولئك}: الذين ذُكِر وصفهم {في ضلال بعيد}: لأنهم ضلُّوا وأضلُّوا وشاقُّوا اللهَ ورسولَهُ وحاربوهما؛ فأيُّ ضلال أبعدُ من هذا؟! وأما أهل الإيمان؛ فبعكس هؤلاء؛ يؤمنون بالله وآياته، ويستحبُّون الآخرة على الدنيا، ويدعون إلى سبيل الله، ويحسِّنونها مهما أمكنهم، ويبينون استقامتها.