تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 23

وَ اُدۡخِلَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ؕ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ﴿۲۳﴾
اور جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، ان کی آپس کی دعا اس میں سلام ہو گی۔ En
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے وه ان جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے چشمے جاری ہیں جہاں انہیں ہمیشگی ہوگی اپنے رب کے حکم سے۔ جہاں ان کا خیر مقدم سلام سے ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے ظالموں کو دیے جانے والے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد اطاعت کرنے والوں کے لیے ثواب کا ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَاُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور داخل کیے گئے وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے نیک یعنی وہ لوگ جنھوں نے قول و فعل اور اعتقاد کے ساتھ دین کو قائم کیا ﴿ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ ایسے باغات میں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ان جنتوں میں ایسی لذات و شہوات ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کے تصور کا گزر ہوا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا بِـاِذْنِ رَبِّهِمْ وہ ان میں اپنے رب کے حکم سے ہمیشہ رہیں گے یعنی وہ اپنی قوت و اختیار سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی قوت و اختیار سے جنت میں داخل ہوں گے ﴿ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰ٘مٌ ان کی دعائے ملاقات ہے ان میں سلام وہ سلام اور اچھے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا خیرمقدم کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر عقاب الظالمين؛ ذكر ثواب الطائعين، فقال: {وأُدْخِلَ الذين آمنوا وعملوا الصالحات}؛ أي: قاموا بالدين قولاً وعملاً واعتقاداً، {جناتٍ تجري من تحتها الأنهارُ}: فيها من اللَّذَّات والشَّهَوات ما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعتْ ولا خطر على قلب بشرٍ. {خالدين فيها بإذنِ ربِّهم}؛ أي: لا بحولهم وقوَّتهم، بل بحول الله وقوته. {تحيَّتُهم فيها سلامٌ}؛ أي: يحيّي بعضُهم بعضاً بالسلام والتحية والكلام الطيب.