وَ اُدۡخِلَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا بِاِذۡنِ رَبِّہِمۡ ؕ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ﴿۲۳﴾
اور جولوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، ان کی آپس کی دعا اس میں سلام ہو گی۔
En
اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کیے وہ بہشتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ وہاں ان کی صاحب سلامت سلام ہوگا
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور نیک عمل کیے وه ان جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے چشمے جاری ہیں جہاں انہیں ہمیشگی ہوگی اپنے رب کے حکم سے۔ جہاں ان کا خیر مقدم سلام سے ہوگا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت23) ➊ { وَ اُدْخِلَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق یہاں بھی مشرکین اور شیطان کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والوں کا انجام ذکر فرمایا کہ وہ جنتوں میں داخل کر دیے گئے۔ مراد یہ ہے کہ کیے جائیں گے، مگر بات اتنی یقینی ہے کہ اسے ماضی کے لفظ سے بیان کیا کہ سمجھو یہ کام ہو چکا۔ اس سے پہلے شیطان اور مشرکین، کمزور اور سرداروں کی گفتگو میں بھی ماضی کا صیغہ یہی حکمت رکھتا ہے۔
➋ { وَ اُدْخِلَ:} ”داخل کیے جائیں گے“ داخل کون کرے گا؟ اس کی تین جہتیں ہیں، اصل تو اللہ تعالیٰ ہے جو جنت میں بھیجنے کا حکم دے گا، پھر فرشتے ہیں جو اس کے حکم سے انھیں جنت میں لے جائیں گے، تیسرے ان کا ایمان اور عمل صالح ہیں جو اللہ کی رحمت اور ان کے جنت میں جانے کا ذریعہ بنیں گے، اس لیے مجہول کا صیغہ استعمال کیا۔ {” بِاِذْنِ رَبِّهِمْ “ } یعنی یہ سب کچھ ان کے رب کی توفیق اور مہربانی سے ہوگا۔
➌ { تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ: } یعنی آپس میں ملتے وقت وہ ”السلام علیکم“ کہیں گے۔ فرشتے ان سے کہیں گے: «{ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ }» [الرعد: ۲۴] ”سلام ہو تم پر اس کے بدلے میں جو تم نے صبر کیا۔“ یعنی تم پر سلامتی ہو، پھر رب رحیم انھیں سلام کہے گا: «{ سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ }» [یٰسٓ: ۵۸]”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔“ اس میں مبارک باد کا مفہوم بھی ہے، سلامتی کی دعا بھی اور اللہ کی طرف سے سلامتی کا عطیہ بھی۔
➋ { وَ اُدْخِلَ:} ”داخل کیے جائیں گے“ داخل کون کرے گا؟ اس کی تین جہتیں ہیں، اصل تو اللہ تعالیٰ ہے جو جنت میں بھیجنے کا حکم دے گا، پھر فرشتے ہیں جو اس کے حکم سے انھیں جنت میں لے جائیں گے، تیسرے ان کا ایمان اور عمل صالح ہیں جو اللہ کی رحمت اور ان کے جنت میں جانے کا ذریعہ بنیں گے، اس لیے مجہول کا صیغہ استعمال کیا۔ {” بِاِذْنِ رَبِّهِمْ “ } یعنی یہ سب کچھ ان کے رب کی توفیق اور مہربانی سے ہوگا۔
➌ { تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ: } یعنی آپس میں ملتے وقت وہ ”السلام علیکم“ کہیں گے۔ فرشتے ان سے کہیں گے: «{ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ }» [الرعد: ۲۴] ”سلام ہو تم پر اس کے بدلے میں جو تم نے صبر کیا۔“ یعنی تم پر سلامتی ہو، پھر رب رحیم انھیں سلام کہے گا: «{ سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ }» [یٰسٓ: ۵۸]”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔“ اس میں مبارک باد کا مفہوم بھی ہے، سلامتی کی دعا بھی اور اللہ کی طرف سے سلامتی کا عطیہ بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 یہ اہل شقاوت و اہل کفر کے مقابلے میں اہل سعادت اور اہل ایمان کا تذکرہ ہے۔ ان کا ذکر ان کے ساتھ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اہل ایمان والا کردار اپنانے کا شوق ورغبت پیدا ہو۔ 23۔ 2 یعنی آپس میں ان کا تحفہ ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔ علاوہ ازیں فرشتے بھی ہر ہر دروازے سے داخل ہو ہو کر انھیں سلام عرض کریں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے انھیں ایسے باغوں میں داخل کیا جائے گا جن میں نہریں بہ رہی ہیں وہ اللہ کے حکم سے ان میں ہمیشہ [28] رہیں گے۔ وہاں ان کی دعائے ملاقات [29] سلام ہو گی
[28] یہاں اہل جنت کا ذکر اسی سنت الٰہی کے مطابق آیا ہے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آئے تو ساتھ ہی اہل جنت کا تھوڑا سا ذکر کر دیا جائے اور جہاں اہل جنت کا تفصیلی ذکر آئے تو ساتھ ہی مختصر سا اہل دوزخ کا بھی ذکر کر دیا جاتا ہے۔ [29] تحیۃ کے معنی ہیں دعائے درازی عمر اور یہاں دنیا میں جو ایک دوسرے کی ملاقات کے وقت سلام یا السلام علیکم کہا جاتا ہے تو یہ در اصل مخاطب کے لیے امن و سلامتی اور تندرستی کی دعا ہوتی ہے اور جنت میں سلامتی تو پہلے ہی موجود ہو گی وہاں سلام کا مطلب یہ ہو گا کہ تمہیں یہ سلامتی مبارک ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
طوطا چشم دشمن شیطان ٭٭
اللہ تعالیٰ جب بندوں کی قضاء سے فارغ ہوگا، مومن جنت میں کافر دوزخ میں پہنچ جائیں گے، اس وقت ابلیس ملعون جہنم میں کھڑا ہو کر ان سے کہے گا کہ ”اللہ کے وعدے سچے اور بر حق تھے، رسولوں کی تابعداری میں ہی نجات اور سلامتی تھی، میرے وعدے تو دھوکے تھے میں تو تمہیں غلط راہ پر ڈالنے کے لیے سبز باغ دکھایا کرتا تھا۔ میری باتیں بے دلیل تھیں میرا کلام بے حجت تھا۔ میرا کوئی زور غلبہ تم پر نہ تھا تم تو خواہ مخواہ میری ایک آواز پر دوڑ پڑے۔ میں نے کہا تم نے مان لیا رسولوں کی سچے وعدے ان کی با دلیل آواز ان کی کامل حجت والی دلیلیں تم نے ترک کر دیں۔ ان کی مخالفت اور میری موافقت کی۔ جس کا نتیجہ آج اپنی آنکھوں سے تم نے دیکھ لیا یہ تمہارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے مجھے ملامت نہ کرنا بلکہ اپنے نفس کو ہی الزام دینا، گناہ تمہارا اپنا ہے خود تم نے دلیلیں چھوڑیں تم نے میری بات مانی آج میں تمہارے کچھ کام نہ آؤں گا نہ تمہیں بچا سکوں نہ نفع پہنچا سکوں۔ میں تو تمہارے شرک کے باعث تمہارا منکر ہوں میں صاف کہتا ہوں کہ میں شریک اللہ نہیں۔“
جیسے فرمان الٰہی ہے «مَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف5، 6]، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں ‘۔
اور آیت میں ہے «كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82]، ’ یقیناً وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے ‘۔
یہ ظالم لوگ ہیں اس لیے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔
جیسے فرمان الٰہی ہے «مَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ» ۱؎ [46-الأحقاف5، 6]، ’ اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے؟ جو اللہ کے سوا اوروں کو پکارے جو قیامت تک اس کی پکار کو قبول نہ کر سکیں بلکہ اس کے پکارنے سے محض غافل ہوں اور محشر کے دن ان کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر بن جائیں ‘۔
اور آیت میں ہے «كَلَّا سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» ۱؎ [19-مریم:82]، ’ یقیناً وہ لوگ ان کی عبادتوں سے منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے ‘۔
یہ ظالم لوگ ہیں اس لیے کہ حق سے منہ پھیر لیا باطل کے پیرو کار بن گئے ایسے ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ ابلیس کا یہ کلام دوزخیوں سے دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہوگا۔ تاکہ وہ حسرت و افسوس میں اور بڑھ جائیں۔
لیکن ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جب اگلوں پچھلوں کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا اور ان میں فیصلے کر دے گا فیصلوں کے وقت عام گھبراہٹ ہوگی۔ مومن کہیں گے ہم میں فیصلے ہو رہے ہیں، اب ہماری سفارش کے لیے کون کھڑا ہوگا؟ پس آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچو چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے۔
مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا۔
اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔
آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پا لیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لیے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے }۔
مجھے کھڑا ہونے کی اللہ تبارک و تعالیٰ اجازت دے گا اسی وقت میری مجلس سے پاکیزہ تیز اور عمد خوشبو پھیلے گی کہ اس سے بہتر اور عمدہ خوشبو کھبی کسی نے نہ سونگھی ہو گی میں چل کر رب العالمین کے پاس آؤں گا میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پیر کے انگوٹھے تک نورانی ہو جائے گا۔
اب میں سفارش کروں گا اور جناب حق تبارک و تعالیٰ قبول فرمائے گا یہ دیکھ کر کافر لوگ کہیں گے کہ چلو بھئی ہم بھی کسی کو سفارشی بنا کر لے چلیں اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے ابلیس کے اور کون ہے؟ اسی نے ہم کو بہکایا تھا۔ چلو اسی سے عرض کریں۔
آئیں گے ابلیس سے کہیں گے کہ مومنوں نے تو شفیع پا لیا اب تو ہماری طرف سے شفیع بن جا۔ اس لیے کہ ہمیں گمراہ بھی تو نے ہی کیا ہے یہ سن کر یہ ملعون کھڑا ہو گا۔ اس کی مجلس سے ایسی گندی بدبو پھیلے گی کہ اس سے پہلے کسی ناک میں ایسی بدبو نہ پہنچی ہو۔ پھر وہ کہے گا جس کا بیان اس آیت میں ہے }۔
محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جب جہنمی اپنا صبر اور بے صبری یکساں بتلائیں گے اس وقت ابلیس ان سے یہ کہے کا اس وقت وہ اپنی جانوں سے بھی بیزار ہو جائیں گے ندا آئے گی کہ «لَمَقْتُ اللَّـهِ أَكْبَرُ مِن مَّقْتِكُمْ أَنفُسَكُمْ إِذْ تُدْعَوْنَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ» ۱؎ [40-غافر:10] ’ تمہاری اس وقت کی اس بیزاری سے بھی زیادہ بیزاری اللہ کی تم سے اس وقت تھی جب کہ تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے ‘۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا ‘ یہ آیتیں «قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:116-119] الخ، تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا «وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ» ۱؎ [14-ابراھیم:22]۔“
برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ ایماندار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا ‘۔
جیسے فرمان ہے «حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» ۱؎ [39-الزمر:73]، یعنی ’ جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے ‘، الخ۔
اور آیت میں ہے «وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُم» ۱؎ [13-الرعد:23، 24] ’ ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ’ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ’ ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہو گا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی ‘۔
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام لوگوں کے سامنے اس دن دو شخص خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوں گے۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ تم اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لینا ‘ یہ آیتیں «قَالَ اللَّـهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ» ۱؎ [5-المائدہ:116-119] الخ، تک اسی بیان میں ہیں اور ابلیس کھڑا ہو کر کہے گا «وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ» ۱؎ [14-ابراھیم:22]۔“
برے لوگوں کے انجام کا اور ان کے درد و غم اور ابلیس کے جواب کا ذکر فرما کر اب نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ ایماندار نیک اعمال لوگ جنتوں میں جائیں گے جہاں چاہیں جائیں آئیں چلیں پھریں کھائیں پیئیں ہمیشہ ہمیش کے لیے وہیں رہیں۔ یہاں نہ آزردہ ہوں نہ دل بھرے نہ طبیعت بھرے نہ مارے جائیں نہ نکالے جائیں نہ نعمتیں کم ہوں۔ وہاں ان کا تحفہ سلام ہی سلام ہو گا ‘۔
جیسے فرمان ہے «حَتَّىٰ إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَالِدِينَ» ۱؎ [39-الزمر:73]، یعنی ’ جب جنتی جنت میں جائیں گے اور اس کے دروازے ان کے لیے کھولے جائیں گے اور وہاں کے داروغہ انہیں سلام علیک کہیں گے ‘، الخ۔
اور آیت میں ہے «وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُم» ۱؎ [13-الرعد:23، 24] ’ ہر دروازے سے ان کے پاس فرشتے آئیں گے اور سلام علیکم کہیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «أُولَـٰئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا» ۱؎ [25-الفرقان:75] ’ وہاں تحیۃ اور سلام ہی سنائے جائیں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّـهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [10-یونس:10] ’ ان کی پکار وہاں اللہ کی پاکیزگی کا بیان ہو گا اور ان کا تحفہ وہاں سلام ہو گا۔ اور ان کی آخر آواز اللہ رب العالمین کی حمد ہوگی ‘۔