تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 24

اَلَمۡ تَرَ کَیۡفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصۡلُہَا ثَابِتٌ وَّ فَرۡعُہَا فِی السَّمَآءِ ﴿ۙ۲۴﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال کیسے بیان فرمائی (کہ وہ) ایک پاکیزہ درخت کی طرح (ہے) جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی چوٹی آسمان میں ہے۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے (وہ ایسی ہے) جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ مضبوط (یعنی زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں
En
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزه بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزه درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً کیا آپ نے نہیں دیکھا، کیسے بیان کی اللہ نے ایک مثال، ستھری بات یہاں کلمہ طیبہ (ستھری بات) سے مراد ہے اس امر کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کی فروعات (ایسے ہے) ﴿ كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ جیسے ایک ستھرا درخت ہے اور اس سے مراد کھجور کا درخت ہے ﴿ اَصْلُهَا ثَابِتٌ اس کی جڑ مضبوط ہے یعنی زمین میں مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے ﴿ وَّفَرْعُهَا اور اس کی شاخیں۔ یعنی اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ﴿ فِی السَّمَآءِ آسمان میں اور یہ درخت دائمی طور پر کثیر الفوائد ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ألم تَرَ كيف ضَرَبَ الله مثلاً كلمةً طيبةً}: وهي شهادة أن لا إله إلا الله وفروعها {كشجرةٍ طيبةٍ}: وهي النخلة {أصلُها ثابتٌ}: في الأرض. {وفرعُها}: منتشرٌ {في السماء}: وهي كثيرة النفع دائماً.