تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 7

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ ٪﴿۷﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ توُ تو صرف ایک ڈرانے والا ہے اور ہر قوم کے لیے ایک راستہ بتانے والا ہے۔ En
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی نازل نہیں ہوئی۔ سو (اے محمدﷺ) تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے
En
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزه) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاه کرنے والے ہیں۔ اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سوچے سمجھے اور اپنی خواہشات کے مطابق معین آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ لَوْلَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ کیوں نہیں اتاری گئی آپ پر کوئی نشانی، آپ کے رب کی طرف سے معجزات کے مطالبے کا جواب نہ ملنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عذر پیش کرتے ہوئے یہ بات کہتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو محض ڈرانے والے ہیں آپ کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو آیات و معجزات نازل فرماتا ہے۔ اس نے ایسے واضح دلائل کے ساتھ رسول کی تائید فرمائی جو عقل مندوں پر مخفی نہیں ہیں اور طالب حق ان دلائل کے ذریعے سے راہ راست پا سکتا ہے۔ رہا منکر حق، جو اپنے ظلم و جہالت کی وجہ سے بغیر سوچے سمجھے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ مطالبہ باطل جھوٹ اور بہتان طرازی ہے کیونکہ اس کے پاس جو بھی معجزہ اور نشانی آئے گی وہ اس پر ایمان لائے گا نہ اس کی اطاعت کرے گا کیونکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی صحت پر دلائل نہیں بلکہ اس کے ایمان نہ لانے کی وجہ صرف خواہشات نفس اور شہوات کی پیروی ہے۔ ﴿ وَّلِكُ٘لِّ قَوْمٍ هَادٍ اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہوا کرتا ہے۔ یعنی ہر قوم کے پاس انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین میں سے ایک داعی آتا ہے جو انھیں ہدایت کی طرف بلاتا ہے۔ ان کے پاس دلائل و براہین ہوتے ہیں جو اس ہدایت کی صحت پر دلالت کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ويقترح الكفارُ عليك من الآيات التي يُعَيِّنُونَها ويقولون: {لولا أنزِلَ عليه آيةٌ من ربِّه}، ويجعلون هذا القول منهم عُذراً لهم في عدم الإجابة إلى الرسول، والحال أنَّه منذرٌ، ليس له من الأمر شيءٌ، والله هو الذي ينزِّل الآيات، وقد أيَّده بالأدلَّة البيِّنات التي لا تخفى على أولي الألباب، وبها يهتدي من قصدُهُ الحقُّ، وأما الكافر الذي مِنْ ظلمه وجهله يقترح على الله الآيات؛ فهذا اقتراحٌ منه باطلٌ وكذبٌ وافتراءٌ ؛ فإنَّه لو جاءته أيُّ آية كانت؛ لم يؤمن ولم ينقد؛ لأنَّه لم يمتنع من الإيمان لعدم ما يدلُّه على صحته، وإنَّما ذلك لهوى نفسه واتِّباع شهوته. {ولكلِّ قوم هادٍ}؛ أي: داعٍ يدعوهم إلى الهدى من الرسل وأتباعهم، ومعهم من الأدلَّة والبراهين ما يدلُّ على صحَّة ما معهم من الهدى.