اور وہ تجھ سے بھلائی سے پہلے برائی کو جلدی طلب کرتے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کئی عبرت ناک سزائیں گزر چکیں اور بے شک تیرا رب یقینا لوگوں کے لیے ان کے ظلم کے باوجود بڑی بخشش والا ہے اور بلاشبہ تیرا رب یقینا بہت سخت سزا والا ہے۔
En
اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے جلد خواستگار یعنی (طالب عذاب) ہیں حالانکہ ان سے پہلے عذاب (واقع) ہوچکے ہیں اور تمہارا پروردگار لوگوں کو باوجود ان کی بےانصافیوں کے معاف کرنے والا ہے۔ اور بےشک تمہارا پروردگار سخت عذاب دینے والا ہے
اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلد کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں، اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے واﻻ ہے لوگوں کے بے جا ﻇلم پر بھی۔ اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے واﻻ بھی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے مشرکین کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ جن کو نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت حاصل نہ کی۔ ان پر دلائل قائم کیے گئے مگر انھوں نے ان دلائل کو نہ مانا بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کھلم کھلا انکار کیا انھوں نے اللہ واحد و قہار کے حلم اور ان کے گناہوں پر فوری طور پر گرفت نہ ہونے کی و جہ سے استدلال کیا کہ وہ حق پر ہیں۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا شروع کر دیا کہ وہ جلدی سے عذاب لے آئیں اور ان میں سے بعض تو یہاں تک کہہ دیتے ﴿ اللّٰهُمَّاِنْكَانَهٰؔذَاهُوَالْحَقَّمِنْعِنْدِكَفَاَمْطِرْعَلَیْنَاحِجَارَةًمِّنَالسَّمَآءِاَوِائْتِنَابِعَذَابٍاَلِیْمٍ ﴾ (الانفال: 8؍32) ”اے اللہ! اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لے آ۔“
﴿ وَقَدْخَلَتْمِنْقَبْلِهِمُالْمَثُلٰتُ﴾”اور گزر چکی ہیں ان سے پہلے مثالیں “ اور حال یہ ہے کہ جھٹلانے والی قوموں پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کے واقعات گزر چکے ہیں کیا وہ اپنے حال پر غور و فکر کر کے اپنی جہالت کو چھوڑ نہیں سکتے؟ ﴿ وَاِنَّرَبَّكَلَذُوْمَغْفِرَةٍلِّلنَّاسِعَلٰىظُلْمِهِمْ﴾”اور آپ کا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کرنے والا ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ کی بھلائی، اس کا احسان، اس کا کرم اور اس کا عفوودرگزر اس کے بندوں پر ہمیشہ نازل ہوتا رہتا ہے اور بندوں کی طرف سے ان کا شرک و عصیان اس کی طرف بلند ہوتا ہے، اس کے بندے اس کی نافرمانی کرتے ہیں وہ ان کو اپنے دروازے کی طرف بلاتا ہے، وہ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں مگر وہ انھیں اپنے فضل و احسان سے محروم نہیں کرتا۔ پس اگر وہ توبہ کر لیں تو وہ ان کا دوست ہے کیونکہ وہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کریں تو وہ ان کا طبیب ہے، وہ ان کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ ان کو گناہوں سے پاک کردے۔ وہ کہتا ہے: ﴿قُ٘لْیٰؔعِبَادِیَالَّذِیْنَاَسْرَفُوْاعَلٰۤىاَنْفُسِهِمْلَاتَقْنَطُوْامِنْرَّحْمَةِاللّٰهِ١ؕاِنَّاللّٰهَیَغْفِرُالذُّنُوْبَجَمِیْعًا١ؕاِنَّهٗهُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ﴾ (الزمر:39؍53) ”کہہ دیجیے! اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“﴿ وَاِنَّرَبَّكَلَشَدِیْدُالْعِقَابِ ﴾”بے شک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔“ ان لوگوں کو جو اپنے گناہوں پر مصر رہتے ہیں، جو اللہ غالب اور بخشنے والے کے پاس توبہ، استغفار اور التجا کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ پس بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ان سزاؤں سے ڈرنا چاہیے جو وہ اہل جرائم کو دیتا ہے، اس کی پکڑ نہایت سخت اور دردناک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن جهل المكذِّبين لرسوله، المشركين به، الذين وُعظوا فلم يتَّعظوا، وأُقيمت عليهم الأدلَّة فلم ينقادوا لها، بل جاهروا بالإنكار، واستدلُّوا بحِلْم الله الواحد القهار عنهم وعدم معاجلتهم بذنوبهم أنهم على حقٍّ، وجعلوا يستعجلون الرسول بالعذاب، ويقول قائلهم: {اللهمَّ إن كان هذا هو الحقَّ من عندِكَ فأمطِرْ علينا حجارةً من السماء أو ائتِنا بعذابٍ أليم}! {و} الحال أنَّه {قد خَلَتْ من قبلهم المَثُلاتُ}؛ أي: وقائع الله وأيامه في الأمم المكذبين، أفلا يتفكَّرون في حالهم ويتركون جهلهم؟! {وإنَّ ربَّك لذو مغفرةٍ للناس على ظلمِهِم}؛ أي: لا يزال خيره إليهم وإحسانُه وبرُّه وعفوه نازلاً إلى العباد، وهم لا يزال شِرْكهم وعصيانهم إليه صاعداً؛ يعصونه فيدعوهم إلى بابه، ويجرِمون فلا يحرِمُهم خيره وإحسانه؛ فإنْ تابوا إليه؛ فهو حبيبُهم؛ لأنَّه يحبُّ التوَّابين ويحبُّ المتطهِّرين، وإن لم يتوبوا؛ فهو طبيبُهم؛ يبتليهم بالمصائب ليطهِّرهم من المعايب: {قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنَطوا من رحمةِ الله إنَّ الله يغفرُ الذُّنوب جميعاً إنَّه هو الغفور الرحيم}. {وإنَّ ربَّك لشديدُ العقابِ}: على من لم يزلْ مصرًّا على الذُّنوب، قد أبى التوبة والاستغفار والالتجاء إلى العزيز الغفار؛ فليحذرِ العبادُ عقوباتِهِ بأهل الجرائم؛ فإنَّ أخذَه أليم شديدٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔