تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 8

اَللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَحۡمِلُ کُلُّ اُنۡثٰی وَ مَا تَغِیۡضُ الۡاَرۡحَامُ وَ مَا تَزۡدَادُ ؕ وَ کُلُّ شَیۡءٍ عِنۡدَہٗ بِمِقۡدَارٍ ﴿۸﴾
اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور جو کچھ رحم کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازے سے ہے۔ En
خدا ہی اس بچے سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے اور پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی (واقف ہے) ۔ اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک اندازہ مقرر ہے
En
ماده اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کا علم سب کو شامل، اس کی اطلاع بہت وسیع اور اس نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے: ﴿ اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُ٘لُّ اُنْثٰى اللہ جانتا ہے جو پیٹ میں رکھتی ہے ہر مادہ یعنی انسان اورجانوروں میں سے ﴿ وَمَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ اور جو کم کرتے ہیں پیٹ یعنی رحم میں موجود حمل میں جو کمی ہوتی ہے یا وہ ہلاک ہوجاتے ہیں یا وہ سکڑ کر مضمحل ہو جاتے ہیں ﴿ وَمَا تَزْدَادُ اور جو وہ زیادہ کرتے ہیں اور ان میں موجود بچے بڑے ہوجاتے ہیں۔ ﴿ وَكُ٘لُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ اور ہر چیز کا اس کے ہاں اندازہ ہے کوئی چیز اس مقدار سے آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ اس مقدار سے زیادہ ہو سکتی نہ کم مگر جس کا تقاضا اس کی حکمت اور علم کرے۔ ﴿ عٰؔلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ وہ نہاں اور آشکار کا جاننے والا اور بڑا ہے۔ یعنی وہ عالم غیب اور عالم ظاہر کا علم رکھتا ہے وہ اپنی ذات اور اپنے اسماء و صفات میں بڑا ہے۔ ﴿ الْمُتَعَالِ عالی رتبہ ہے۔ یعنی وہ اپنی ذات، قدرت اور غلبہ کے اعتبار سے تمام مخلوق پر بلند ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بعموم علمه وسعة اطَّلاعه وإحاطته بكلِّ شيء، فقال: {الله يعلمُ ما تحمِلُ كلُّ أنثى}: من بني آدم وغيرهم، {وما تَغيضُ الأرحامُ}؛ أي: تَنْقُصُ مما فيها، إما أن يَهْلِكَ الحمل أو يتضاءل أو يضمحلَّ، {وما تزدادُ}: الأرحام وتكبر الأجنَّة التي فيها. {وكلُّ شيءٍ عنده بمقدارٍ}: لا يتقدَّم عليه ولا يتأخَّر ولا يزيد ولا يَنْقُص إلاَّ بما تقتضيه حكمته وعلمه؛ فإنَّه {عالمُ الغيب والشهادةِ الكبيرُ}: في ذاته وأسمائه وصفاته، {المتعالِ}: على جميع خلقه بذاتِهِ وقدرته وقهره.