اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
En
اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے۔ تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہوں گے؟ یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی ہیں جو جہنم کے رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ وَاِنْتَعْجَبْ ﴾”اور اگر آپ تعجب کریں “ میں احتمال ہے کہ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت اور توحید کے دلائل کی کثرت پر تعجب ہو۔ اس لیے کہ اس کے باوجود جھٹلانے والوں کا انکار اور ان کا روز قیامت کی تکذیب کرنا عجیب بات ہے۔ کہتے ہیں: ﴿ فَعَجَبٌقَوْلُهُمْءَاِذَاكُنَّاتُرٰبً٘اءَاِنَّالَ٘فِیْخَلْ٘قٍجَدِیْدٍ﴾”کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے، کیا نئے سرے سے بنائے جائیں گے؟“ یعنی ان کے زعم باطل کے مطابق یہ بہت بعید اور ممتنع ہے کہ جب وہ مٹی میں رل مل جائیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے۔ انھوں نے بربنائے جہالت خالق کی قدرت کو مخلوق کی قدرت پر قیاس کر لیا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ مخلوق کی قدرت سے باہر ہے تو انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ خالق کے لیے بھی ممتنع ہے۔ حالانکہ وہ فراموش کر بیٹھے کہ ان کو پہلی بار اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھے۔
آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے اگر آپ ان کی بات اور ان کی ان کے مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیب پر تعجب کرتے ہیں تو واقعی ان کی یہ بات عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ شخص جس کے سامنے آیات الٰہی بیان کی جائیں، جو زندگی بعد موت پر ایسے قطعی دلائل دیکھتا ہو جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور اس کے بعد وہ انکار کر دے تو یہ عجیب بات ہے۔ مگر ان کی یہ بات کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ﴿ اُولٰٓىِٕكَالَّذِیْنَكَفَرُوْابِرَبِّهِمْ﴾”یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا“ اور اس کی وحدانیت کو جھٹلایا حالانکہ توحید سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ روشن چیز ہے۔
﴿ وَاُولٰٓىِٕكَالْاَغْ٘لٰ٘لُ ﴾”اور وہی لوگ، طوق ہیں “ جو ان کو راہ ہدایت سے روکتے ہیں ﴿ فِیْۤاَعْنَاقِهِمْ﴾”ان کی گردنوں میں “ کیونکہ انھیں ایمان کی طرف بلایا گیا مگر وہ ایمان نہ لائے، ان کے سامنے ہدایت پیش کی گئی مگر انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ لہذا سزا کے طور پر ان کے دل پلٹ دیے گئے کیونکہ یہ لوگ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَاَصْحٰؔبُالنَّارِ١ۚهُمْفِیْهَاخٰؔلِدُوْنَ ﴾”یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے“ یعنی وہ جہنم سے کبھی نہیں نکلیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يحتمل أنَّ معنى قوله: {وإن تَعْجَبْ}: من عظمة الله تعالى وكثرة أدلَّة التوحيد؛ فإنَّ العجب مع هذا إنكار المكذِّبين وتكذيبهم بالبعث وقولهم: {أإذا كُنَّا تراباً أإنّا لفي خلقٍ جديدٍ}؛ أي: هذا بعيدٌ في غاية الامتناع بزعمهم أنَّهم بعدما كانوا تراباً أن الله يُعيدهم؛ فإنَّهم من جهلهم قاسوا قدرة الخالق بقدرة المخلوق، فلما رأوا هذا ممتنعاً في قدرة المخلوق، ظنُّوا أنه ممتنعٌ على قدرة الخالق، ونسوا أنَّ الله خلقهم أول مرَّة ولم يكونوا شيئاً. ويُحتمل أنَّ معناه: وإنْ تعجَبْ من قولهم وتكذيبهم للبعث؛ فإنَّ ذلك من العجائب؛ فإنَّ الذي تُوَضَّح له الآيات ويرى منها الأدلة القاطعة على البعث ما لا يقبل الشكَّ والريبَ ثم ينكِرُ ذلك؛ فإنَّ قوله من العجائب، ولكن ذلك لا يُستغرب على {الذين كفروا بربهم}: وجَحَدوا وحدانيَّته، وهي أظهرُ الأشياء وأجلاها. {وأولئك الأغلالُ}: المانعة لهم من الهدى {في أعناقِهِم}: حيث دُعُوا إلى الإيمان فلم يؤمنوا، وعُرِضَ عليهم الهدى فلم يهتدوا، فقلِبَت قلوبهم وأفئدتهم عقوبةً على أنهم لم يؤمنوا به أول مرة. {وأولئك أصحابُ النار هم فيها خالدون}: لا يخرجون منها أبداً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔