تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ:} یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا تو گویا اللہ کی قدرت سے انکار کیا اور یہ کہا کہ اللہ اتنا عاجز اور بے بس ہے کہ انھیں دوبارہ پیدا کر ہی نہیں سکتا۔ [اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہِ]
➌ {وَ اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ …: ” الْاَغْلٰلُ “ ”غُلٌّ“} کی جمع ہے، لوہے کا کڑا یا زنجیر جو مجرم کے گلے میں ڈال کر اسے باندھا جاتا ہے۔ بعض اوقات اس کے ساتھ ہی ہاتھ بھی گردن کے ساتھ باندھ دیتے ہیں، یہ قید کی سخت ترین صورت ہے۔ یعنی ان کی گردنوں میں وہی آبائی کفر و شرک کے طوق پڑے ہوئے ہیں جو انھیں کفر سے ہلنے نہیں دیتے اور انجام ان کا یہ ہے کہ یہ آگ والے ہیں، ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔ بعض مفسرین نے {” اُولٰٓىِٕكَ الْاَغْلٰلُ “} کو بھی آخرت کے انجام میں شامل کیا ہے کہ جہنم میں ان کی گردنوں میں لوہے کے طوق (کڑے) ہوں گے، جن میں پڑی ہوئی زنجیروں سے بندھے ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے تو زیادہ ظاہر معنی یہی معلوم ہوتا ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «{ اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ يُسْحَبُوْنَ (71) فِي الْحَمِيْمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُوْنَ }» [المؤمن: ۷۱، ۷۲] ”جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں، گھسیٹے جا رہے ہوں گے۔ کھولتے پانی میں، پھر وہ آگ میں جھونکے جائیں گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ربانی ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ جس نے آسمان و زمین بغیر تھکے پیدا کر دیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے ‘۔
پس یہاں فرماتا ہے کہ ’ اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يحتمل أنَّ معنى قوله: {وإن تَعْجَبْ}: من عظمة الله تعالى وكثرة أدلَّة التوحيد؛ فإنَّ العجب مع هذا إنكار المكذِّبين وتكذيبهم بالبعث وقولهم: {أإذا كُنَّا تراباً أإنّا لفي خلقٍ جديدٍ}؛ أي: هذا بعيدٌ في غاية الامتناع بزعمهم أنَّهم بعدما كانوا تراباً أن الله يُعيدهم؛ فإنَّهم من جهلهم قاسوا قدرة الخالق بقدرة المخلوق، فلما رأوا هذا ممتنعاً في قدرة المخلوق، ظنُّوا أنه ممتنعٌ على قدرة الخالق، ونسوا أنَّ الله خلقهم أول مرَّة ولم يكونوا شيئاً. ويُحتمل أنَّ معناه: وإنْ تعجَبْ من قولهم وتكذيبهم للبعث؛ فإنَّ ذلك من العجائب؛ فإنَّ الذي تُوَضَّح له الآيات ويرى منها الأدلة القاطعة على البعث ما لا يقبل الشكَّ والريبَ ثم ينكِرُ ذلك؛ فإنَّ قوله من العجائب، ولكن ذلك لا يُستغرب على {الذين كفروا بربهم}: وجَحَدوا وحدانيَّته، وهي أظهرُ الأشياء وأجلاها. {وأولئك الأغلالُ}: المانعة لهم من الهدى {في أعناقِهِم}: حيث دُعُوا إلى الإيمان فلم يؤمنوا، وعُرِضَ عليهم الهدى فلم يهتدوا، فقلِبَت قلوبهم وأفئدتهم عقوبةً على أنهم لم يؤمنوا به أول مرة. {وأولئك أصحابُ النار هم فيها خالدون}: لا يخرجون منها أبداً.