تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 43

وَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَسۡتَ مُرۡسَلًا ؕ قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ ۙ وَ مَنۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡکِتٰبِ ﴿٪۴۳﴾
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا،کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔ En
اور کافر لوگ کہتے ہیں کہ تم (خدا کے) رسول نہیں ہو۔ کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا اور وہ شخص جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے گواہ کافی ہیں
En
یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں۔ آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے واﻻ کافی ہے اور وه جس کے پاس کتاب کا علم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں یعنی کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اس حق کی تکذیب کرتے ہیں جس کے ساتھ آپ کو مبعوث کیا گیا ہے ﴿ قُ٘لْ اگر وہ آپ سے گواہ طلب کریں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ كَ٘فٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَبَیْنَكُمْ اللہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ کافی ہے اور اس کی گواہی اس کے قول و فعل اور اقرار کے ذریعے سے ہوتی ہے۔
قول کے ذریعے سے اس کی شہادت یہ ہے کہ اس نے یہ قرآن مخلوق میں سب سے سچی ہستی پر نازل فرمایا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ثابت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اپنی تائید سے نوازا اور آپ کو ایسی فتح و نصرت عطا کی جو آپ کی، آپ کے اصحاب اور آپ کے متبعین کی قدرت اختیار سے باہر تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فعل و تائید کے ذریعے سے شہادت ہے۔ اقرار کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی شہادت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خبر دی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کریں۔ پس جو کوئی آپ کی اطاعت کرتا ہے اس کے لیے اللہ کی رضامندی اور اس کی کرامت ہے اور جو کوئی آپ کی اطاعت نہیں کرتا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور جہنم ہے اور اس کا خون اور مال حلال ہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دعوے پر برقرار رکھتا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آپ کو عذاب دے دیتا۔
﴿ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ اور جس کو خبر ہے کتاب کی یہ آیت کریمہ اہل کتاب کے تمام علماء کو شامل ہے۔ کیونکہ ان میں سے جو کوئی ایمان لا کر حق کی اتباع کرتا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی دیتا ہے اور نہایت صراحت سے آپ کے حق میں شہادت دیتا ہے اور ان میں سے جو کوئی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی خبر کہ اس کے پاس شہادت ہے، اس کی خبر سے زیادہ بلیغ ہے۔ اگر اس کے پاس شہادت نہ ہوتی تو دلیل کے ساتھ اپنے طلب شہادت کو رد کر دیتا۔ پس اس کا سکوت دلالت کرتا ہے کہ اس کے پاس رسول کے حق میں شہادت موجود ہے جو اس نے چھپا رکھی ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل کتاب سے گواہی لینے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ وہ گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہیں ہر معاملے میں صرف اسی شخص سے گواہی لی جانی چاہیے جو اس کا اہل ہو اور دوسروں کی نسبت اس بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو اس معاملے میں بالکل اجنبی ہوں، مثلاً:ان پڑھ مشرکین عرب وغیرہ تو ان سے شہادت طلب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ انھیں اس معاملے کی کوئی خبر ہے نہ انھیں اس کی معرفت ہی حاصل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ويقول الذين كفروا لستَ مرسلاً}؛ أي: يكذِّبونك ويكذِّبون ما أرسلت به. {قل} لهم إن طلبوا على ذلك شهيداً: {كفى بالله شهيداً بيني وبينَكم}: وشهادته بقوله وبفعله وإقراره: أما قوله؛ فبما أوحاه الله إلى أصدق خلقه مما يُثْبِتُ به رسالته. وأما فعله؛ فلأنَّ الله تعالى أيَّد رسوله ونصره نصراً خارجاً عن قدرته وقدرة أصحابه وأتباعه، وهذا شهادةٌ منه له بالفعل والتأييد، وأما إقراره؛ فإنَّه أخبر الرسول عنه أنه رسول ، وأنه أمر الناس باتباعه؛ فمن اتَّبعه؛ فله رضوانُ الله وكرامته، ومن لم يتَّبعه؛ فله النار والسخط، وحلَّ له مالُه ودمه، والله يقرُّه على ذلك؛ فلو تقوَّل عليه بعض الأقاويل؛ لعاجله بالعقوبة.

{ومَنْ عندَه علمُ الكتاب}: وهذا شاملٌ لكلِّ علماء أهل الكتابين؛ فإنَّهم يشهدون للرسول، من آمن واتَّبع الحقَّ، صرَّح بتلك الشهادة التي عليه، ومن كتم ذلك؛ فإخبار الله عنه أنَّ عنده شهادةً أبلغ من خبره، ولو لم يكن عنده شهادةٌ؛ لردَّ استشهاده بالبرهان؛ فسكوته يدلُّ على أن عنده شهادةً مكتومةً، وإنَّما أمر الله باستشهاد أهل الكتاب لأنَّهم أهل هذا الشأن، وكلُّ أمر إنما يُستشهد فيه أهله ومن هم أعلم به من غيرهم؛ بخلاف مَنْ هو أجنبيٌّ عنه؛ كالأميِّين من مشركي العرب وغيرهم؛ فلا فائدة في استشهادهم؛ لعدم خبرتهم ومعرفتهم. والله أعلم.