اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو کاٹ دیتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور انھی کے لیے اس گھر کی خرابی ہے۔
En
اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے
اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ایسے احوال بیان فرمائے ہیں جو اہل جنت کے اوصاف کے برعکس ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿الَّذِیْنَیَنْقُضُوْنَعَهْدَاللّٰهِمِنْۢبَعْدِمِیْثَاقِهٖ ﴾”وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو مضبوط کرنے کے بعد“ یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس عہد کو مؤکد اور پکا کرنے کے بعد انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور اطاعت و تسلیم سے اس عہد کو پورا نہ کیا بلکہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے اس کو توڑ دیا۔ ﴿ وَیَقْطَعُوْنَمَاۤاَمَرَاللّٰهُبِهٖۤاَنْیُّوْصَلَ ﴾”اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا“ پس انھوں نے ایمان و عمل کے ذریعے سے اپنے اور اپنے رب کے مابین تعلق کو قائم کیا، نہ انھوں نے صلہ رحمی کی اور نہ انھوں نے حقوق ادا کیے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کفرومعاصی کا ارتکاب کرکے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک کر اور اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنے کی کوششوں کے ذریعے سے، زمین میں فساد پھیلایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَلَهُمُاللَّعْنَةُ ﴾”ایسوں پر لعنت ہے۔“ یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اس کے فرشتوں اور اس کے مومن بندوں کی طرف سے مذمت ہے ﴿ وَلَهُمْسُوْٓءُالدَّارِ ﴾”اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔“ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ اس میں ان کے لیے المناک عذاب ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذكر حال أهل الجنة؛ ذكر أنَّ أهل النار بعكس ما وصفهم به، فقال عنهم: {والذين ينقُضون عهد الله من بعد ميثاقِهِ}؛ أي: من بعدما أكَّده عليهم على أيدي رسله وغلَّظ عليهم، فلم يقابلوه بالانقياد والتسليم، بل قابلوه بالإعراض والنقض. {ويقطَعون ما أمر الله به أن يوصَلَ}: فلم يَصِلوا ما بينهم وبين ربِّهم بالإيمان والعمل الصالح، ولا وصلوا الأرحام، ولا أدَّوا الحقوق، بل أفسدوا في الأرض بالكفر والمعاصي والصدِّ عن سبيل الله وابتغائها عوجاً. {أولئك لهم اللعنةُ}؛ أي: البعد والذمُّ من الله وملائكته وعباده المؤمنين. {ولهم سوء الدار}: وهي الجحيم بما فيها من العذاب الأليم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔