ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرعد (13) — آیت 25

وَ الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ۙ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ اللَّعۡنَۃُ وَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ الدَّارِ ﴿۲۵﴾
اور وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو کاٹ دیتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور انھی کے لیے اس گھر کی خرابی ہے۔ En
اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے
En
اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کےجوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت25){وَ الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ …:} قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق کہ وہ ایمان کے ساتھ کفر، نیکی کے ساتھ بدی، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر کرتا ہے، عہد وفا کرنے والوں کی صفات اور ان کے اچھے انجام کے بعد عہد توڑنے والوں کی صفات بد اور ان کا برا انجام ذکر فرمایا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

25۔ 1 یہ نیکوں کے ساتھ بروں کا حشر بیان فرما دیا تاکہ انسان اس حشر سے بچنے کی کوشش کرے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور جو لوگ اللہ سے کئے ہوئے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن روابط کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے انھیں کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد [34] بپا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے لعنت ہے اور ان کے لئے (آخرت میں) برا گھر ہے
[34] سنت الٰہی کے مطابق یہاں بھی اہل جنت کے ساتھ اہل دوزخ کا ذکر آیا ہے اور ان کی صفات ایسی بیان کی گئی ہیں جو مومنوں کی صفات کے بالکل برعکس ہیں۔ لہٰذا ان کا انجام بھی اہل جنت کے انجام کے عین ضد ہو گا۔ جنت کے بجائے انھیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور سلامتی کی دعاؤں کے بجائے ان پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مومنین کی صفات ٭٭
مومنوں کی صفتیں اوپر بیان ہوئیں کہ ’ وہ وعدے کے پورے، رشتوں ناتوں کے ملانے والے ہوتے ہیں ‘۔ پھر ان کا اجر بیان ہوا کہ ’ وہ جنتوں کے مالک بینں گے ‘۔
اب یہاں ان بدنصیبوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ان کے خلاف خصائل رکھتے تھے نہ اللہ کے وعدوں کا لحاظ کرتے تھے نہ صلہ رحمی اور احکام الٰہی کی پابندی کا خیال رکھتے تھے یہ لعنتی گروہ ہے اور برے انجام والا ہے۔
حدیث میں ہے { منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ بولنا، وعدوں کا خلاف کرنا، امانت میں خیانت کرنا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33]‏‏‏‏
ایک حدیث میں ہے { جھگڑوں میں گالیاں بکنا } ۱؎ [صحیح بخاری:34]‏‏‏‏ اس قسم کے لوگ رحمت الٰہی سے دور ہیں ان کا انجام برا ہے یہ جہنمی گروہ ہے۔
یہ چھ خصلتیں ہوئیں جو منافقین سے اپنے غلبہ کے وقت ظاہر ہوتی ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی، امانت میں خیانت، اللہ کے عہد کو توڑ دینا اللہ کے ملانے کے حکم کی چیزوں کو نہ ملانا۔ ملک میں فساد پھیلانا، اور یہ دبے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی جھوٹ وعدہ خلافی اور خیانت کرتے ہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ایسے احوال بیان فرمائے ہیں جو اہل جنت کے اوصاف کے برعکس ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو مضبوط کرنے کے بعد یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے انبیاء و مرسلین کے ذریعے سے اس عہد کو مؤکد اور پکا کرنے کے بعد انھوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور اطاعت و تسلیم سے اس عہد کو پورا نہ کیا بلکہ اس سے روگردانی کرتے ہوئے اس کو توڑ دیا۔ ﴿ وَیَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا پس انھوں نے ایمان و عمل کے ذریعے سے اپنے اور اپنے رب کے مابین تعلق کو قائم کیا، نہ انھوں نے صلہ رحمی کی اور نہ انھوں نے حقوق ادا کیے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے کفرومعاصی کا ارتکاب کرکے، لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک کر اور اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنے کی کوششوں کے ذریعے سے، زمین میں فساد پھیلایا۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ ایسوں پر لعنت ہے۔ یعنی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور اس کے فرشتوں اور اس کے مومن بندوں کی طرف سے مذمت ہے ﴿ وَلَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔ اس سے مراد جہنم ہے کیونکہ اس میں ان کے لیے المناک عذاب ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر حال أهل الجنة؛ ذكر أنَّ أهل النار بعكس ما وصفهم به، فقال عنهم: {والذين ينقُضون عهد الله من بعد ميثاقِهِ}؛ أي: من بعدما أكَّده عليهم على أيدي رسله وغلَّظ عليهم، فلم يقابلوه بالانقياد والتسليم، بل قابلوه بالإعراض والنقض. {ويقطَعون ما أمر الله به أن يوصَلَ}: فلم يَصِلوا ما بينهم وبين ربِّهم بالإيمان والعمل الصالح، ولا وصلوا الأرحام، ولا أدَّوا الحقوق، بل أفسدوا في الأرض بالكفر والمعاصي والصدِّ عن سبيل الله وابتغائها عوجاً. {أولئك لهم اللعنةُ}؛ أي: البعد والذمُّ من الله وملائكته وعباده المؤمنين. {ولهم سوء الدار}: وهي الجحيم بما فيها من العذاب الأليم.