تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 26

اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ ؕ وَ فَرِحُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَا الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا مَتَاعٌ ﴿٪۲۶﴾
اللہ رزق فراخ کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے، حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں تھوڑے سے سامان کے سوا کچھ نہیں۔ En
خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے
En
اللہ تعالیٰ جس کی روزی چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے یہ تو دنیا کی زندگی میں مست ہو گئے۔ حاﻻنکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں نہایت (حقیر) پونجی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی وہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے۔ رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اسے کشادہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے نپاتلا رزق عطا کر کے اس پر رزق کو تنگ کردیتا ہے ﴿ وَفَرِحُوْا اور وہ خوش ہورہے ہیں۔ یعنی کفار خوش ہیں ﴿ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا دنیا کی زندگی پر انھیں ایسی خوشی ہے جو ان کے لیے دنیا پر اطمینان اور آخرت سے غفلت کی موجب ہے اور یہ ان کی کم عقلی ہے۔ ﴿ وَمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اور نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں مگر حقیر سامان یعنی دنیا کی زندگی ایک حقیر سی چیز ہے جس سے بہت کم فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور جو فائدہ اٹھانے والے دنیا داروں سے جدا ہو جائے گی اور اپنے پیچھے ایک طویل ہلاکت چھوڑ جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هو وحده يوسِّع الرزق ويبسُطُه على من يشاء ويَقْدِره ويضيِّقه على مَن يشاء. {وفرحوا}؛ أي: الكفار {بالحياة الدنيا}: فرحاً أوجب لهم أن يطمئنُّوا بها ويغفلوا عن الآخرة، وذلك لنقصان عقولهم. {وما الحياة الدُّنيا في الآخرة إلاَّ متاعٌ}؛ أي: شيء حقيرٌ يُتَمَتَّع به قليلاً ويفارق أهله وأصحابه ويُعْقِبُهم وَيلاً طويلاً.