تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 11

لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ یَحۡفَظُوۡنَہٗ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰہُ بِقَوۡمٍ سُوۡٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَہٗ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ مِنۡ وَّالٍ ﴿۱۱﴾
اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے آنے والے کئی پہرے دار ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ نہیں بدلتا جو کسی قوم میں ہے، یہاں تک کہ وہ اسے بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کر لے تو اسے ہٹانے کی کوئی صورت نہیں اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مددگار نہیں۔ En
اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا
En
اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وه خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی سزا کا اراده کر لیتا ہے تو وه بدﻻ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَهٗ اس کے لیے۔ یعنی انسان کے لیے ﴿مُعَقِّبٰؔتٌ پہرے دار ہیں یعنی فرشتے جو شب و روز ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں ﴿ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ بندے کے آگے سے اور اس کے پیچھے سے، اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں یعنی یہ فرشتے اس کے جسم و روح کی ہر اس چیز سے حفاظت کرتے ہیں جو اس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے، وہ اس کے اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ پس جیسے اللہ تعالیٰ کے علم نے انسان کا احاطہ کر رکھا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے بھیج رکھے ہیں جبکہ انسان کے اعمال اور احوال اللہ تعالیٰ سے اوجھل ہیں نہ وہ ان میں سے کچھ بھولتا ہے۔
﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ بے شک اللہ، وہ نہیں بدلتا جو لوگوں کو حاصل ہے یعنی نعمت، احسان اور اسباب زیست کی فراوانی ﴿ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ جب تک وہ خود اس چیز کو نہ بدل دیں یعنی جب تک کہ وہ ایمان سے کفر، اطاعت سے نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر سے ناشکری کی طرف منتقل نہیں ہوتے، تب اس صورت میں اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں سلب کر لیتا ہے اور اسی طرح جب بندے اپنی حالت کو بدل لیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں تو پھر ان کی بدبختی کی حالت کو بھلائی، مسرت، خوشی اور رحمت کی حالت میں بدل دیتا ہے۔ ﴿ وَاِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کے لیے کسی عذاب، سختی یا کسی ایسے امر کا ارادہ کرتا ہے جسے وہ ناپسند کرتے ہیں تو اس کا ارادہ ان پر ضرور نافذ ہوتا ہے۔ ﴿ فَلَا مَرَدَّ لَهٗ اسے کوئی رد نہیں کرسکتا، یعنی اس سے انھیں کوئی بچا نہیں سکتا۔ ﴿ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ اور اس کے سوا ان کا کوئی حمایتی نہیں یعنی جو ان کے معاملات کی سرپرستی کر کے ان کے لیے ان کی محبوب و مرغوب اشیاء مہیا کرے اور ناپسندیدہ چیزوں کو ان سے دور کرے۔ پس لوگ ان امور پر قائم رہنے سے بچیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں مباداکہ ان پر وہ عذاب نازل ہو جائے جو مجرموں پر سے ہٹایا نہیں جاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{له}؛ أي: للإنسان {معقباتٌ}: من الملائكة يتعاقبون في الليل والنهار، {من بين يديهِ ومن خلفِهِ يحفظونَه من أمر الله}؛ أي: يحفظون بدنه وروحه من كلِّ مَن يريده بسوء، ويحفظون عليه أعماله، وهم ملازمون له دائماً؛ فكما أنَّ علم الله محيطٌ به؛ فالله قد أرسل هؤلاء الحفظة على العباد بحيث لا تَخْفى أحوالهم ولا أعمالهم ولا يُنسَى منها شيء. {إنَّ الله لا يغيِّر ما بقوم}: من النعمة والإحسان ورَغَدِ العيش، {حتَّى يغيِّروا ما بأنفسِهم}: بأن ينتقلوا من الإيمان إلى الكفر، ومن الطاعة إلى المعصية، أو من شكر نعم الله إلى البطر بها، فيسلُبُهم الله عند ذلك إياها، وكذلك إذا غير العباد ما بأنفسهم من المعصية، فانتقلوا إلى طاعة الله؛ غيَّر الله عليهم ما كانوا فيه من الشقاء إلى الخير والسرور والغبطة والرحمة. {وإذا أراد الله بقوم سوءاً}؛ أي: عذاباً وشدَّة وأمراً يكرهونه؛ فإنَّ إرادته لا بدَّ أن تنفذ فيهم، فإنه {لا مردَّ له}، ولا أحد يمنعهم منه، {وما لهم من دونِهِ من والٍ}: يتولَّى أمورهم، فيجلب لهم المحبوبَ، ويدفع عنهم المكروهَ. فَلْيَحْذروا من الإقامة على ما يكره الله؛ خشية أن يحلَّ بهم من العقاب ما لا يُرَدُّ عن القوم المجرمين.