تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 10

سَوَآءٌ مِّنۡکُمۡ مَّنۡ اَسَرَّ الۡقَوۡلَ وَ مَنۡ جَہَرَ بِہٖ وَ مَنۡ ہُوَ مُسۡتَخۡفٍۭ بِالَّیۡلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّہَارِ ﴿۱۰﴾
برابر ہے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے اور جو اسے بلند آواز سے کرے اور وہ جو رات کو بالکل چھپا ہوا ہے اور (جو) دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔ En
کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اس کے نزدیک) برابر ہے
En
تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بﺂواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر ویکساں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ سَوَؔآءٌ مِّؔنْكُمْ برابر ہے تم میں سے یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭؔ بِالَّیْلِ جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ اور جو دن میں چلنے والا ہے یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{سواءٌ منكم}: في علمه وسمعه وبصره، {مَنْ أسرَّ القول ومن جَهَرَ به ومن هو مستخفٍ بالليل}؛ أي: مستقرٌّ بمكان خفي فيه، {وساربٌ بالنهار}؛ أي: داخل سربه في النهار، والسربُ هو ما يستخفي فيه الإنسان: إما جوف بيته، أو غار، أو مغارة، أو نحو ذلك.