تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ سَوَؔآءٌمِّؔنْكُمْ ﴾”برابر ہے تم میں سے“ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں ﴿ مَّنْاَسَرَّالْقَوْلَوَمَنْجَهَرَبِهٖوَمَنْهُوَمُسْتَخْفٍۭؔبِالَّیْلِ ﴾”جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں “ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے ﴿ وَسَارِبٌۢبِالنَّهَارِ ﴾”اور جو دن میں چلنے والا ہے“ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (اَلسَّرَب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وغیرہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{سواءٌ منكم}: في علمه وسمعه وبصره، {مَنْ أسرَّ القول ومن جَهَرَ به ومن هو مستخفٍ بالليل}؛ أي: مستقرٌّ بمكان خفي فيه، {وساربٌ بالنهار}؛ أي: داخل سربه في النهار، والسربُ هو ما يستخفي فيه الإنسان: إما جوف بيته، أو غار، أو مغارة، أو نحو ذلك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔