تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ …: } یعنی جب تک نیکی کے بجائے برائی اور اطاعت کے بجائے نافرمانی نہ کرنے لگیں، البتہ جب وہ ایسا کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمت چھین لیتا ہے اور ان پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے آلِ فرعون کی مثال کے ساتھ سورۂ انفال (۵۳، ۵۴) میں بیان فرمائی۔ مزید مثال کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۱۱۲) اور سبا (۱۵ تا ۱۷) واضح رہے کہ یہاں قوموں کی تباہی کا قانون بیان کیا گیا ہے، افراد کا نہیں۔ کسی قوم کی اچھی یا بری حالت کا تعین اسی لحاظ سے کیا جائے گا کہ آیا اس میں اچھے لوگوں کا غلبہ ہے یا برے لوگوں کا؟ رہے افراد تو ضروری نہیں کہ ایک شخص گناہ کرے تبھی اس پر عذاب نازل ہو، بلکہ ایک بے گناہ شخص دوسروں کے گناہ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جیسا کہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں نے پوچھا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَنَهْلِكُ وَفِيْنَا الصَّالِحُوْنَ، قَالَ نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قصۃ یأجوج و مأجوج: ۳۳۴۶] ”اے اللہ کے رسول! کیا نیک لوگوں کے ہم میں موجود ہونے کے باوجود ہم ہلاک ہو جائیں گے؟“ فرمایا: ”ہاں! جب خباثت (گناہ) زیادہ ہو جائے۔“
➌ {وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا …: } ہم چاہے کتنی سائنسی تدبیریں اور حفاظت کا بندوبست کر لیں، یا کسی پیر، بزرگ، بت یا جن یا فرشتے کی پناہ پکڑ لیں، اللہ تعالیٰ کے ارادے کے مقابلے میں کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[17] اس جملہ کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۃ انفال کی آیت نمبر 53 کا حاشیہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
{ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں { وہ اللہ پاک ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیرا ہوا ہے، قسم اللہ کی اپنے خاوند کی شکایت لے کر آنے والی عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کانا پھوسی کی کہ میں پاس ہی گھر میں بیٹھی ہوئی تھی لیکن میں پوری طرح نہ سن سکی لیکن اللہ تعالیٰ نے آیتیں «قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» ۱؎ [58-المجادلہ:1] اتاریں یعنی ’ اس عورت کی یہ تمام سرگوشی اللہ تعالیٰ سن رہا تھا ‘ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7386قبل الحدیث]
وہ سمیع وبصیر ہے، جو اپنے گھر کے تہ خانے میں راتوں کے اندھیرے میں چھپا ہوا ہو وہ اور جو دن کے وقت کھلم کھلا آباد راستوں میں چلا جا رہا ہو وہ علم اللہ میں برابر ہیں۔ جیسے آیت «اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ اِنَّهٗ عَلِيْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ» ۱؎ [11-ھود:5] میں فرمایا ہے۔
اللہ کے فرشتے بطور نگہبان اور چوکیدار کے بندوں کے اردگرد مقرر ہیں، جو انہیں آفتوں سے اور تکلیفوں سے بچاتے رہتے ہیں جیسے کہ اعمال پر نگہبان فرشتوں کی اور جماعت ہے، جو باری باری پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے الگ دن کے الگ۔ اور جیسے کہ دو فرشتے انسان کے دائیں بائیں اعمال لکھنے پر مقرر ہیں، داہنے والا نیکیاں لکھتا ہے بائیں جانب والا بدیاں لکھتا ہے۔
اسی طرح دو فرشتے اس کے آگے پیچھے ہیں جو اس کی حفاظت وحراست کرتے رہتے ہیں۔ پس ہر انسان ہر وقت چار فرشتوں میں رہتا ہے، دو کاتب اعمال دائیں بائیں دو نگہبانی کرنے والے آگے پیچھے، پھر رات کے الگ دن کے الگ۔
چنانچہ حدیث میں ہے { تم میں فرشتے پے در پے آتے جاتے رہتے ہیں، رات کے اور دن کے ان کا میل صبح اور عصر کی نماز میں ہوتا ہے رات گزارنے والے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔ باوجود علم کے اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم گئے تو انہیں نماز میں پایا اور آئے تو نماز میں چھوڑ آئے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:555]
اور حدیث میں ہے { تمہارے ساتھ وہ ہیں جو سوا پاخانے اور جماع کے وقت کے تم سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ پس تمہیں ان کا لحاظ، ان کی شرم، ان کا اکرام اور ان کی عزت کرنی چاہیئے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2800،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یہ دنیا کے بادشاہوں امیروں وغیرہ کا ذکر ہے جو پہرے چوکی میں رہتے ہیں۔“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سلطان اللہ کی نگہبانی میں ہوتا ہے «اَمْرِ الله» سے یعنی مشرکین اور ظاہرین سے۔“ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ممکن ہے غرض اس قول سے یہ ہو کہ جیسے بادشاہوں امیروں کی چوکیداری سپاہی کرتے ہیں اسی طرح بندے کے چوکیدار اللہ کی طرف سے مقرر شدہ فرشتے ہوتے ہیں۔
{ اللہ کا فرمان ہے کہ «مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ» [50-ق:18] ’ انسان جو بات زبان پر لاتا ہے اس پر نگہبان متعین اور مہیا ہیں ‘، اور دو فرشتے تیرے آگے پیچھے ہیں فرمان الٰہی ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ» [13-الرعد:11] الخ، ’ اور ایک فرشتہ تیرے ماتھے کا بال تھامے ہوئے ہے جب تو اللہ کے لیے تواضع اور فروتنی کرتا ہے وہ تجھے پست اور عاجز کر دیتا ہے اور دو فرشتے تیرے ہونٹوں پر ہیں، جو درود تو مجھ پر پڑھتا ہے اس کی وہ حفاظت کرتے ہیں۔ ایک فرشتہ تیرے منہ پر کھڑا ہے کہ کوئی سانپ وعیر جیسی چیز تیرے حلق میں نہ چلی جائے اور دو فرشتے تیری آنکھوں پر ہیں ‘ }۔
{ پس یہ دس فرشتے ہر بنی آدم کے ساتھ ہیں پھر دن کے الگ ہیں۔ اور رات کے الگ ہیں یوں ہر شخص کے ساتھ بیس فرشتے منجانب اللہ موکل ہیں۔ ادھر بہکانے کے لیے دن بھر تو ابلیس کی ڈیوٹی رہتی ہے اور رات کو اس کی اولاد کی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30211/16:ضعیف]
مسند احمد میں ہے { تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جن ساتھی ہے اور فرشتہ ساتھی ہے لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی؟ فرمایا: { ہاں لیکن اللہ نے اس پر میری مدد کی ہے، وہ مجھے بھلائی کے سوا کچھ نہیں کہتا } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2814]
یہ فرشتے بحکم رب اس کی نگہبانی رکھتے ہیں۔ بعض قرأتوں میں «مِنْ أَمْرِ اللَّهِ» کے بدلے «بِاَمْرِ اللَّهِ» ہے۔ کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ابن آدم کے لیے ہر نرم وسخت کھل جائے تو البتہ ہر چیز اسے خود نظر آنے لگے۔ اور اگر اللہ کی طرف سے یہ محافظ فرشتے مقرر نہ ہوں جو کھانے پینے اور شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں تو واللہ تم تو اچک لیے جاؤ۔ ابوامامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر آدمی کے ساتھ محافظ فرشتہ ہے، جو تقدیری امور کے سوا اور تمام بلاؤں کو اس سے دفعہ کرتا رہتا ہے۔
جیسے حدیث شریف میں ہے { لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ جھاڑ پھونک جو ہم کرتے ہیں کیا اس سے اللہ کی مقرر کی ہوئی تقدیر ٹل جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خود اللہ کی مقرر کردہ ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2065،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ { بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک کی طرف وحی الٰہی ہوئی کہ اپنی قوم سے کہہ دے کہ جس بستی والے اور جس گھر والے اللہ کی اطاعت گزاری کرتے کرتے اللہ کی معصیت کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی راحت کی چیزوں کو ان سے دور کر کے انہیں وہ چیزیں پہنچاتا ہے جو انہیں تکلیف دینے والی ہوں }۔ اس کی تصدیق قرآن کی آیت «اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ» ۱؎ [13-الرعد:11] سے بھی ہوتی ہے۔ امام ابن ابی شیبہ کی کتاب صفۃ العرش میں یہ روایت مرفوعاً بھی آئی ہے۔
عمیر بن عبدالملک کہتے ہیں کہ کوفے کے منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ سنایا جس میں فرمایا کہ ”اگر میں چپ رہتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات شروع کرتے اور جب میں پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جواب دیتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اپنی عزت وجلال کی اپنی بلندی کی جو عرش پر ہے کہ جس بستی کے جس گھر کے لوگ میری نافرمانیوں میں مبتلا ہوں پھر انہیں چھوڑ کر میرے فرمانبرداری میں لگ جائیں تو میں بھی اپنے عذاب اور دکھ ان سے ہٹا کر اپنی رحمت اور سکھ انہیں عطا فرماتا ہوں ‘ }۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند میں ایک راوی غیر معروف ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{له}؛ أي: للإنسان {معقباتٌ}: من الملائكة يتعاقبون في الليل والنهار، {من بين يديهِ ومن خلفِهِ يحفظونَه من أمر الله}؛ أي: يحفظون بدنه وروحه من كلِّ مَن يريده بسوء، ويحفظون عليه أعماله، وهم ملازمون له دائماً؛ فكما أنَّ علم الله محيطٌ به؛ فالله قد أرسل هؤلاء الحفظة على العباد بحيث لا تَخْفى أحوالهم ولا أعمالهم ولا يُنسَى منها شيء. {إنَّ الله لا يغيِّر ما بقوم}: من النعمة والإحسان ورَغَدِ العيش، {حتَّى يغيِّروا ما بأنفسِهم}: بأن ينتقلوا من الإيمان إلى الكفر، ومن الطاعة إلى المعصية، أو من شكر نعم الله إلى البطر بها، فيسلُبُهم الله عند ذلك إياها، وكذلك إذا غير العباد ما بأنفسهم من المعصية، فانتقلوا إلى طاعة الله؛ غيَّر الله عليهم ما كانوا فيه من الشقاء إلى الخير والسرور والغبطة والرحمة. {وإذا أراد الله بقوم سوءاً}؛ أي: عذاباً وشدَّة وأمراً يكرهونه؛ فإنَّ إرادته لا بدَّ أن تنفذ فيهم، فإنه {لا مردَّ له}، ولا أحد يمنعهم منه، {وما لهم من دونِهِ من والٍ}: يتولَّى أمورهم، فيجلب لهم المحبوبَ، ويدفع عنهم المكروهَ. فَلْيَحْذروا من الإقامة على ما يكره الله؛ خشية أن يحلَّ بهم من العقاب ما لا يُرَدُّ عن القوم المجرمين.