تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قَالُوْاتَاللّٰهِلَقَدْاٰثَرَكَاللّٰهُعَلَیْنَا ﴾”انھوں نے کہا، اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو ہمارے مقابلے میں پسند کر لیا ہے“ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کے ذریعے سے ہم پر فضیلت سے نوازا۔ ہم نے آپ کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا، ہم نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کو اپنے باپ سے دور کرنے کی خواہش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بخشی اور ان امور کو آپ کے لیے ممکن بنا دیا جو آپ چاہتے تھے۔ ﴿ وَاِنْكُنَّالَخٰطِــِٕیْنَ﴾”اور بلاشبہ ہم خطا کار تھے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا تالله لقد آثرك الله علينا}؛ أي: فضَّلك علينا بمكارم الأخلاق ومحاسن الشيم، وأسأنا إليك غاية الإساءة، وحرصْنا على إيصال الأذى إليك والتبعيد لك عن أبيك، فآثرك الله تعالى ومكَّنك مما تريد [وإن كُنّا لخاطئين، وهذا غاية الاعتراف منهم بالجرم الحاصل منهم على يوسف].
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔