تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 91

قَالُوۡا تَاللّٰہِ لَقَدۡ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ ﴿۹۱﴾
انھوں نے کہا اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا اللہ نے تجھے ہم پر فوقیت دی ہے اور بلاشبہ ہم واقعی خطا کار تھے۔ En
وہ بولے خدا کی قسم خدا نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور بےشک ہم خطاکار تھے
En
انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا انھوں نے کہا، اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو ہمارے مقابلے میں پسند کر لیا ہے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کے ذریعے سے ہم پر فضیلت سے نوازا۔ ہم نے آپ کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا، ہم نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کو اپنے باپ سے دور کرنے کی خواہش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بخشی اور ان امور کو آپ کے لیے ممکن بنا دیا جو آپ چاہتے تھے۔ ﴿ وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــِٕیْنَ اور بلاشبہ ہم خطا کار تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا تالله لقد آثرك الله علينا}؛ أي: فضَّلك علينا بمكارم الأخلاق ومحاسن الشيم، وأسأنا إليك غاية الإساءة، وحرصْنا على إيصال الأذى إليك والتبعيد لك عن أبيك، فآثرك الله تعالى ومكَّنك مما تريد [وإن كُنّا لخاطئين، وهذا غاية الاعتراف منهم بالجرم الحاصل منهم على يوسف].