انھوں نے کہا کیا یقینا واقعی تو ہی یوسف ہے؟ کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، یقینا اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو ڈرے اور صبر کرے تو بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
En
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے۔ جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل وکرم کیا، بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
انھوں نے پہچان لیا کہ جو شخص ان سے مخاطب ہے وہ یوسف ہے اس لیے انھوں نے پوچھا: ﴿ ءَاِنَّكَلَاَنْتَیُوْسُفُ١ؕقَالَاَنَایُوْسُفُوَهٰؔذَاۤاَخِیْ١ٞقَدْمَنَّاللّٰهُعَلَیْنَا﴾”کیا آپ یوسف ہیں؟ انھوں نے کہا، ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے“ کہ اس نے ہمیں ایمان، تقویٰ اور زمین میں اقتدار سے نوازا۔ یہ سب کچھ صبر اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ ﴿ اِنَّهٗمَنْیَّتَّقِوَیَصْبِرْ ﴾”بے شک جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتاہے۔“ یعنی جو کوئی فعل حرام سے پرہیز کرتا ہے، آلام و مصائب پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ ﴿ فَاِنَّاللّٰهَلَایُضِیْعُاَجْرَالْمُحْسِنِیْنَ ﴾”تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔“ یہ تمام امور احسان کے زمرے میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کو ضائع نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فعرفوا أن الذي خاطبهم هو يوسفُ، فقالوا: {أإنَّك لأنت يوسفُ قال أنا يوسفُ وهذا أخي قد منَّ الله علينا}: بالإيمان والتقوى والتمكين في الدُّنيا، وذلك بسبب الصبر والتقوى، فَـ {إنَّه من يتَّقِ ويَصْبِرْ}؛ أي: يتَّقي فعل ما حرَّم الله ويصبر على الآلام والمصائب وعلى الأوامر بامتثالها. {فإنَّ الله لا يُضيع أجر المحسنين}: فإنَّ هذا من الإحسان، والله لا يُضيعُ أجرَ من أحسنَ عملاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔