تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 89

قَالَ ہَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِیُوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰہِلُوۡنَ ﴿۸۹﴾
اس نے کہا کیا تم نے جانا کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا، جب تم نادان تھے؟ En
(یوسف نے) کہا تمہیں معلوم ہے جب تم نادانی میں پھنسے ہوئے تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا
En
یوسف نے کہا جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اوراس کے بھائی کے ساتھ اپنی نادانی کی حالت میں کیا کیا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا تو یوسف علیہ السلام نرم پڑ گئے اور انھوں نے ان کو اپنا تعارف کرایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْهِ کیا تمھیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا رہے یوسف علیہ السلام تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید… واللہ اعلم… اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے ﴿ اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ (یوسف: 77/12) یا اس سے مراد وہ حادثہ ہے جس کی بنا پر باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوئی اور اس جدائی کے اصل سبب اور موجب وہی تھے۔ ﴿ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ جب تم ناسمجھ تھے یہ ان کی جہالت پر ایک قسم کا اعتذار ہے یا ان پر زجر و توبیخ ہے کیونکہ انھوں نے جاہلوں کا سا کام کیا، حالانکہ یہ کام ان کے شایان شان نہیں تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما انتهى الأمر وبلغ أشدَّه؛ رقَّ لهم يوسفُ رقَّةً شديدةً، وعرَّفهم بنفسه، وعاتبهم فقال: {هل علمتْم ما فعلتُم بيوسف وأخيه}: أما يوسفُ؛ فظاهرٌ فعلُهم فيه، وأما أخوه؛ فلعلَّه ـ والله أعلم ـ قولهم: {إن يَسْرِقْ فقد سَرَقَ أخٌ له من قبلُ}، أو أن السبب الذي فرَّق بينه وبين أبيه هم السبب فيه والأصل الموجب له. {إذ أنتُم جاهلونَ}: وهذا نوع اعتذارٍ لهم بجهلهم أو توبيخ لهم إذْ فعلوا فعل الجاهلين، مع أنَّه لا ينبغي ولا يَليق منهم.