تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 88

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الۡعَزِیۡزُ مَسَّنَا وَ اَہۡلَنَا الضُّرُّ وَ جِئۡنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزۡجٰىۃٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡکَیۡلَ وَ تَصَدَّقۡ عَلَیۡنَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَجۡزِی الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ ﴿۸۸﴾
پھر جب وہ اس کے پاس داخل ہوئے تو انھوں نے کہا اے عزیز! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، سو ہمارے لیے ماپ پورا دے دے اور ہم پر صدقہ کر۔ یقینا اللہ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ En
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
En
پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے عزیز! ہم کو اور ہمارے خانداں کو دکھ پہنچا ہے۔ ہم حقیر پونجی ﻻئے ہیں پس آپ ہمیں پورے غلہ کا ناپ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے، اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ جب وہ اس کے پاس گئے۔ یعنی جب وہ یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالُوْا تو انھوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا: ﴿ یٰۤاَیُّهَا الْ٘عَزِیْزُ مَسَّنَا وَاَهْلَنَا الضُّ٘رُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰؔىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا اے عزیز! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہو گئے ہیں۔ ﴿ وَجِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰؔىةٍ اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں۔ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بے وقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں۔
﴿ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کر کے ہم پر صدقہ کیجیے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتاہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فذهبوا. فلما دخلوا على يوسف، {قالوا}: متضرِّعين إليه: {يا أيُّها العزيز مسَّنا وأهلَنا الضُّرُّ وجئنا ببضاعةٍ مُزْجاةٍ فأوْفِ لنا الكيلَ وتصدَّقْ علينا}؛ أي: قد اضطررنا نحنُ وأهلُنا {وجئْنا ببضاعةٍ مُزْجاةٍ}؛ أي: مدفوعة مرغوب عنها لقلَّتها وعدم وقوعها الموقع؛ {فأوفِ لنا الكيل}؛ أي: مع عدم وفاء العوض، وتصدَّقْ علينا بالزيادة عن الواجب. {إنَّ الله يَجْزي المتصدِّقين}: بثواب الدنيا والآخرة.