تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 87

یٰبَنِیَّ اذۡہَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ یُّوۡسُفَ وَ اَخِیۡہِ وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
اے میرے بیٹو! جائو اور یوسف اور اس کے بھائی کا سراغ لگائو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں۔ En
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
En
میرے پیارے بچو! تم جاؤ اور یوسف (علیہ السلام) کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ یقیناً رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا: ﴿ یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَاَخِیْهِ اے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ ﴿ وَلَا تَایْ٘ــَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لیے کوشش اور جدوجہد کے لیے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کی بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا یَ٘ایْ٘ــَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْ٘كٰفِرُوْنَ اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامید ہوتے ہیں کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لیے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنے ایمان کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی کی امید رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال يعقوب عليه السلام لبنيه: {يا بَنِيَّ اذهبوا فتحسَّسوا من يوسف وأخيه}؛ أي: احرصوا واجتهدوا على التفتيش عنهما، {ولا تيأسوا من رَوْح الله}: فإنَّ الرجاء يوجِبُ للعبد السعي والاجتهاد فيما رجاه، والإياس يوجِبُ له التثاقل والتباطؤ، وأولى ما رجا العبادُ فضل الله وإحسانه ورحمته وروحه. {إنَّه لا ييأسُ من رَوْح الله إلاَّ القومُ الكافرون}: فإنَّهم لكفرِهم يستبعدون رحمتَه، ورحمتُه بعيدةٌ منهم؛ فلا تتشبَّهوا بالكافرين. ودلَّ هذا على أنَّه بحسب إيمان العبد يكون رجاؤه لرحمةِ الله ورَوْحه.