تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ En
انہوں نے کہا کہ میں اپنے غم واندوہ کا اظہار خدا سے کرتا ہوں۔ اور خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
En
انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں، مجھے اللہ کی طرف سے وه باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ یعقوب علیہ السلام نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب یعنی میں جو بات کرتا ہوں ﴿ وَحُزْنِیْۤ اور اپنا غم وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے ﴿ اِلَى اللّٰهِ اللہ کے سامنے یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمھارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں۔ اس لیے تم جو چاہو کہتے رہو۔ ﴿ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَؔ اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انھیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال يعقوب: {إنَّما أشكو بثِّي}؛ أي: ما أبثُّ من الكلام، {وحُزْني}: الذي في قلبي. {إلى الله}: وحدَه لا إليكم ولا إلى غيركم من الخلق؛ فقولوا ما شئتم، {وأعلمُ من الله ما لا تعلمونَ}: من أنَّه سيردُّهم عليَّ ويقرُّ عيني بالاجتماع بهم.