تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 69

وَ لَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیۡۤ اَنَا اَخُوۡکَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اور جب وہ یوسف کے پاس داخل ہوئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی، کہا بلاشبہ میں ہی تیرا بھائی ہوں، سو تو اس پر غم نہ کر جو وہ کرتے رہے ہیں۔ En
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
En
یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں، پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُتو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی یوسف علیہ السلام نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں، پس غمگین مت ہو یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَؔ ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسف علیہ السلام بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: لما دخل إخوة يوسف على يوسف؛ {آوى إليه أخاه}؛ أي: شقيقه، وهو بنيامين، الذي أمرهم بالإتيان به وضمَّه إليه، واختصَّه من بين إخوته، وأخبره بحقيقة الحال، و {قال إنِّي أنا أخوك؛ فلا تبتئسْ}؛ أي: لا تحزن. {بما كانوا يعملون}: فإنَّ العاقبة خيرٌ لنا، ثم خبره بما يريد أن يصنع ويتحيَّل لبقائِهِ عنده إلى أن ينتهي الأمر.