اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے انھیں حکم دیا تھا، وہ ان سے اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو ہٹا نہ سکتا تھا مگر یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بلاشبہ وہ یقینا بڑے علم والا تھا، اس وجہ سے کہ ہم نے اسے سکھایا تھا اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
En
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
جب وه انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا، گئے۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وه اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال (پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کر لیا، بلاشبہ وه ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَمَّا﴾”اور جب“ یعنی جب وہ روانہ ہوگئے۔ ﴿ دَخَلُوْامِنْحَیْثُاَمَرَهُمْاَبُوْهُمْ١ؕمَاكَانَیُغْنِیْعَنْهُمْمِّنَاللّٰهِمِنْشَیْءٍاِلَّاحَاجَةًفِیْنَفْ٘سِیَعْقُوْبَقَضٰىهَا﴾”(اور) داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو حکم دیا تھا، (ان کا یہ فعل) ان کو اللہ کی کسی بات سے نہ بچا سکتا تھا مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں، سو وہ اس نے پوری کر لی۔“ اور وہ تھا اولاد کے لیے شفقت اور محبت کا موجب، ایسا کرنے سے ان کو ایک قسم کا اطمینان حاصل ہوگیا تھا اور ان کے دل میں جو خیال گزرا تھا وہ بھی پورا ہوگیا اور یہ یعقوب علیہ السلام کے علم کی کوتاہی نہیں کیونکہ وہ انبیائے کرام اور علمائے ربانی میں سے تھے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کی مدافعت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِنَّهٗلَذُوْعِلْمٍ ﴾”وہ علم عظیم کے مالک تھے۔“﴿ لِّمَاعَلَّمْنٰهُ﴾”کیونکہ ہم نے ان کو تعلیم دی تھی۔“ یعنی انھوں نے اپنی قوت و اختیار سے اس کا ادراک نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کا عطا کردہ علم کارفرما تھا۔ ﴿ وَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَایَعْلَمُوْنَؔ ﴾” لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ یعنی مگر اکثر لوگ معاملات کے انجام اور اشیاء کی باریکیوں کو نہیں جانتے۔ اسی طرح اہل علم پر بھی علم، احکام اور اس کے لوازم میں سے بہت کچھ مخفی رہ جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما} ذهبوا و {دَخَلوا من حيث أمرهم أبوهم ما كان}: ذلك الفعل {يُغْني عنهم من الله من شيءٍ إلاَّ حاجةً في نفس يعقوب قضاها}: وهو موجب الشفقة والمحبة للأولاد، فحصل له في ذلك نوعُ طمأنينةٍ وقضاءٍ لما في خاطره، وليس هذا قصوراً في علمه؛ فإنه من الرسل الكرام والعلماء الربانيين، ولهذا قال عنه: {وإنَّه لذو علم}؛ أي: لصاحب علم عظيم، {لما علَّمْناه}؛ أي: لتعليمنا إيَّاه، لا بحوله وقوَّته أدركه، بل بفضل الله وتعليمه. {ولكنَّ أكثر الناس لا يعلمون}: عواقب الأمور ودقائق الأشياء، وكذلك أهل العلم منهم يخفى عليهم من العلم وأحكامه ولوازمه شيء كثيرٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔