اور اس نے کہا اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا اور الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم سے اللہ کی طرف سے (آنے والی) کوئی چیز نہیں ہٹا سکتا، حکم اللہ کے سوا کسی کا نہیں، اسی پر میں نے بھروسا کیا اور اسی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔
En
اور ہدایت کی کہ بیٹا ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں خدا کی تقدیر کو تم سے نہیں روک سکتا۔ بےشک حکم اسی کا ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اہلِ توکل کو اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا۔ میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے۔ میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر جب یعقوب علیہ السلام نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیج دیا تو ان کو وصیت کی کہ جب وہ مصر پہنچیں تو ﴿ لَاتَدْخُلُوْامِنْۢبَ٘ابٍوَّاحِدٍوَّادْخُلُوْامِنْاَبْوَابٍمُّتَفَرِّقَةٍ﴾”ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں “ یعنی وہ ان کے ایک ہی شخص کے بیٹے ہوتے ہوئے ان کی کثرت اور ان کے حسن منظر کی وجہ سے ان کو نظر لگنے سے ڈرتے تھے۔ یہ تو محض سبب ہے جو میں اختیار کر رہا ہوں ورنہ حقیقت یہ ہے ﴿ وَمَاۤاُغْنِیْعَنْكُمْمِّنَاللّٰهِمِنْشَیْءٍ﴾”میں تم کو اللہ کی کسی بات سے نہیں بچا سکتا“ پس جو چیز تقدیر میں لکھی جا چکی ہے وہ ہو کر رہے گی۔ ﴿ اِنِالْحُكْمُاِلَّالِلّٰهِ﴾”حکم تو اللہ ہی کا ہے۔“ یعنی فیصلہ وہی ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے اور حکم وہی ہے جو اس کا حکم ہے۔ پس جس چیز کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کر دے وہ ضرور واقع ہوتا ہے۔ ﴿ عَلَیْهِتَوَكَّؔلْتُ﴾”اسی پر میرا بھروسہ ہے“ یعنی جن اسباب کو اختیار کرنے کی میں نے تمھیں وصیت کی ہے، میں اس پر بھروسہ نہیں کرتا بلکہ میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ ﴿وَعَلَیْهِفَلْیَتَوَكَّلِالْمُتَوَؔكِّلُوْنَؔ ﴾”اور اسی پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے“ کیونکہ توکل ہی کے ذریعے سے ہر مطلوب و مقصود حاصل ہوتا ہے اور توکل ہی کے ذریعے سے ہر خوف کو دور کیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم لما أرسله معهم؛ وصَّاهم إذا هم قدموا مصر أن لا يَدْخلوا {من بابٍ واحد وادخُلوا من أبواب متفرِّقة}: وذلك أنه خاف عليهم العين؛ لكثرتهم وبهاء منظرهم؛ لكونهم أبناء رجل واحد، وهذا سبب، {و} إلا فَ {مَا أغني عنكم من الله}: شيئاً؛ فالمقدَّر لا بدَّ أن يكون. {إن الحكمُ إلا لله}؛ أي: القضاء قضاؤه والأمر أمره؛ فما قضاه، وحكم به لا بدَّ أن يقع. {عليه توكلتُ}؛ أي: اعتمدت على الله لا على ما وصَّيتكم به من السبب. {وعليه فليتوكَّل المتوكِّلون}: فإنَّ بالتوكُّل يحصُل كل مطلوب، ويندفع كل مرهوب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔