تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 66

قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَہٗ مَعَکُمۡ حَتّٰی تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاۡتُنَّنِیۡ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّحَاطَ بِکُمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡہُ مَوۡثِقَہُمۡ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوۡلُ وَکِیۡلٌ ﴿۶۶﴾
اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لائو گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔ En
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
En
یعقوب (علیہ السلام) نے کہا! میں تو اسے ہرگز ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں رکھ کر مجھے قول وقرار نہ دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لئے جاؤ۔ جب انہوں نے پکا قول قرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ یعقوب علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ لَ٘نْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ میں ہرگز اس کو تمھارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، یہاں تک کہ دو تم مجھے عہد اللہ کا یعنی جب تک تم اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر پکا عہد نہ کرو۔ ﴿ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ کہ تم ضرور اس کو میرے پاس پہنچا دو گے مگر یہ کہ گھیرے جاؤ تم سب یعنی سوائے کسی ایسی صورت حال کے جو تمھیں پیش آجائے جس پر تمھارا کوئی اختیار نہ ہو اور تم اس کو ہٹانے کی قدرت نہ رکھتے ہو۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ پس جب انھوں نے ان سے عہد کرلیا۔ یعنی جب یعقوب علیہ السلام کی خواہش کے مطابق انھوں نے عہد و پیمان دے دیا۔ ﴿ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَؔكِیْلٌ حضرت یعقوب نے کہا، اللہ ہماری باتوں پر نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی گواہی، اس کی حفاظت اور اس کی کفایت ہمارے لیے کافی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال لهم يعقوب: {لن أرسِلَه معكم حتى تؤتوني مَوْثِقاً من الله}؛ أي: عهداً ثقيلاً وتحلفون بالله {لتأتُنَّني به إلاَّ أن يُحاطَ بكم}؛ أي: إلاَّ أن يأتيكم أمرٌ لا قَبِلَ لكم به ولا تقدرون دفعه، {فلمَّا آتَوْه مَوْثِقهم}: على ما قال وأراد؛ {قال: الله على ما نقولُ وكيلٌ}؛ أي: تكفينا شهادتُه علينا وحفظه وكفالته.