اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولا تو اپنے مال کو پایا کہ ان کی طرف واپس کر دیا گیا ہے، کہا اے ہمارے باپ! ہم کیا چاہتے ہیں، یہ ہمارا مال ہماری طرف واپس کر دیا گیا ہے اور ہم گھر والوں کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ ماپ زیادہ لائیں گے، یہ بہت تھوڑا ماپ ہے۔
En
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
جب انہوں نے اپنا اسباب کھوﻻ تو اپنا سرمایہ موجود پایا جو ان کی جانب لوٹا دیا گیا تھا۔ کہنے لگے اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہیئے۔ دیکھئے تو یہ ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کو رسد ﻻدیں گے اور اپنے بھائی کی نگرانی رکھیں گے اور ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ زیاده ﻻئیں گے۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَمَّافَتَحُوْامَتَاعَهُمْوَجَدُوْابِضَاعَتَهُمْرُدَّتْاِلَیْهِمْ﴾”اور جب انھوں نے اپنا سامان کھولا تو انھوں نے پایا کہ ان کا مال بھی واپس کر دیا گیا ہے۔“ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ یوسف علیہ السلام نے یہ مال قصداً واپس کیا تھا اور وہ اس مال کا واپس بھائیوں کو مالک بنانا چاہتے تھے۔ ﴿ قَالُوْا ﴾ انھوں نے بھائی کو ساتھ بھیجنے کے لیے ترغیب دیتے ہوئے باپ سے کہا: ﴿ یٰۤاَبَانَامَانَ٘بْغِیْ﴾”اباجان! ہمیں (اور) کیا چاہیے۔“ یعنی اس بہترین اکرام و تکریم کے بعد ہمیں اور کیا چاہیے جبکہ بادشاہ نے ہمیں اناج پورا دیا ہے اور نہایت خوبصورت طریقے سے ہمارا مال بھی واپس لوٹا دیا ہے اور یہ بات اخلاص اور مکارم اخلاق پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿ هٰؔذِهٖبِضَاعَتُنَارُدَّتْاِلَیْنَا١ۚوَنَمِیْرُاَهْلَنَا ﴾”یہ ہے ہماری پونجی جو ہمیں واپس کر دی گئی ہے، اب جائیں تو غلہ لے کر آئیں اپنے گھر والوں کے لیے“ یعنی جب ہم اپنے بھائی کو ساتھ لے کر جائیں گے تو ہم اس کے حصے کا غلہ حاصل کر سکیں گے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لا سکیں گے کیونکہ وہ خوراک کے سخت محتاج ہیں۔ ﴿ وَنَحْفَظُاَخَانَاوَنَزْدَادُكَیْلَبَعِیْرٍ﴾”اور ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کی بھرتی بھی زیادہ لیں گے“ یعنی ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیجنے کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ غلہ زیادہ ملے گا کیونکہ ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیا جاتا تھا۔ ﴿ ذٰلِكَكَیْلٌیَّسِیْرٌ ﴾”اور وہ بھرتی آسان ہے“ یہ بڑا آسان سا کام ہے اس سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ یہ کوئی زیادہ لمبی مدت نہیں اور اس میں جو مصلحت ہے وہ بھی آپ کے سامنے واضح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم إنهم {لما فَتَحوا متاعَهم وَجَدوا بضاعتهم رُدَّتْ إليهم}: هذا دليلٌ على أنَّه قد كان معلوماً عندهم أن يوسف قد ردَّها عليهم بالقصد، وأنَّه أراد أن يملِّكهم إياها، فقالوا لأبيهم ترغيباً في إرسال أخيهم معهم: {يا أبانا ما نَبْغي}؛ أي: أيُّ شيء نطلب بعد هذا الإكرام الجميل حيثُ وفَّى لنا الكيل، وردَّ علينا بضاعتنا على [هذا] الوجه الحسن المتضمِّن للإخلاص ومكارم الأخلاق؟! {هذه بضاعتُنا رُدَّتْ إلينا ونَميرُ أهلنا}؛ أي: إذا ذهبنا بأخينا؛ صار سبباً لكَيْلِهِ لنا، فَمِرْنا أهلنا، وأتينا لهم بما هم مضطرُّون إليه من القوت، {ونحفظُ أخانا ونزدادُ كَيْلَ بعيرٍ}: بإرساله معنا؛ فإنه يكيل لكلِّ واحدٍ حِمْل بعير. {ذلك كيلٌ يسيرٌ}؛ أي: سهل لا ينالك ضررٌ؛ لأن المدة لا تطول، والمصلحة قد تبيَّنت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔