اس نے کہا میں اس پر اس کے سوا تمھارا کیا اعتبار کروں جس طرح میں نے اس کے بھائی پر اس سے پہلے تمھارا اعتبار کیا، سو اللہ بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
En
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا، بس اللہ ہی بہترین حافﻆ ہے اور وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ یعقوب علیہ السلام نے ان سے کہا: ﴿ هَلْاٰمَنُكُمْعَلَیْهِاِلَّاكَمَاۤاَمِنْتُكُمْعَلٰۤىاَخِیْهِمِنْقَبْلُ﴾”کیا میں تمھارا اسی طرح اعتبار کروں جیسے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں اعتبار کیا تھا؟“ یعنی یوسف کی حفاظت کے بارے میں تم اپنی ذمہ داری کے التزام کا وعدہ اس سے پہلے بھی کر چکے ہو۔ بایں ہمہ تم نے اس کی حفاظت کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا، لہٰذا مجھے تمھارے اس عہد پر کوئی بھروسہ نہیں کہ تم اس کی حفاظت کا التزام کرو گے۔ مجھے تو بس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے۔ ﴿ فَاللّٰهُخَیْرٌحٰفِظًا١۪وَّهُوَاَرْحَمُالرّٰحِمِیْنَ﴾”سو اللہ ہی بہتر نگہبان ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ یعنی وہ میرے حال کو جانتا ہے مجھے امید ہے کہ وہ مجھ پر رحم کرے گا اس کی حفاظت کر کے اسے میرے پاس واپس لائے گا۔ گویا انھوں نے بنیامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے کے لیے اپنی گفتگو میں نرمی کا مظاہرہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال} لهم يعقوبُ عليه السلام: {هل آمنُكم عليه إلاَّ كما أمِنتُكم على أخيه من قبلُ}؛ أي: قد تقدَّم منكم التزام أكثر من هذا في حفظ يوسف، ومع هذا؛ فلم تَفوا بما عقدتم من التأكيد؛ فلا أثق بالتزامكم وحفظكم، وإنما أثقُ بالله تعالى. {فالله خيرٌ حافظاً وهو أرحمُ الراحمين}؛ أي: يعلم حالي وأرجو أن يرحمني، فيحفظه ويردُّه عليَّ، وكأنَّه في هذا الكلام قد لان لإرساله معهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔