تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 63

فَلَمَّا رَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡہِمۡ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الۡکَیۡلُ فَاَرۡسِلۡ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَکۡتَلۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۶۳﴾
تو جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو انھوں نے کہا اے ہمارے باپ! ہم سے ماپ روک لیا گیا ہے، سو تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج کہ ہم (غلے کا) ماپ لائیں اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔ En
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
En
جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ ہم سے تو غلہ کا ناپ روک لیا گیا۔ اب آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے کہ ہم پیمانہ بھر کر ﻻئیں ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ پس جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹے تو بولے، ابا جان روک دی گئی ہے ہم سے ماپ یعنی اگر آپ ہمارا بھائی ہمارے ساتھ نہیں بھیجیں گے تو ہمیں اناج نہیں ملے گا۔ ﴿ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْ٘تَلْ پس ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجیں کہ ہم ماپ لے کر آئیں یعنی تاکہ اناج حاصل کرنے میں ہمارا بھائی ہمارے لیے سبب بن سکے، پھر انھوں نے اپنے بھائی کی حفاظت کا ذمہ اٹھاتے ہوئے کہا: ﴿ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُ٘وْنَؔ اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔ یعنی ہم کسی ناخوشگوار صورت حال میں اس کی حفاظت کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا رجعوا إلى أبيهم قالوا يا أبانا مُنِعَ منا الكيلُ}؛ أي: إن لم ترسلْ معنا أخانا، {فأرسِلْ معنا أخانا نَكْتَلْ}؛ أي: ليكون ذلك سبباً لكيلنا. ثم التزموا له بحفظه فقالوا: {وإنَّا له لحافظونَ}: من أن يعرض له ما يكره.