تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ یوسف علیہ السلام نے مصلحت عامہ کی خاطر بادشاہ سے مطالبہ کیا۔ ﴿ اجْعَلْنِیْعَلٰىخَزَآىِٕنِالْاَرْضِ﴾”مجھے اس ملک کے خزانوں پر مقرر کردیجیے۔“ یعنی مجھے زمین کی پیداوار، اس کے محاصل کا نگران، محافظ اور منتظم مقرر کر دیں ﴿ اِنِّیْحَفِیْظٌعَلِیْمٌ ﴾”کیونکہ میں حفاظت بھی کرسکتا ہوں اور اس کام سے واقف بھی ہوں۔“ یعنی جس چیز کا آپ مجھے نگران بنائیں گے میں اس کی حفاظت کروں گا اس میں سے کچھ بھی بے محل استعمال ہو کر ضائع نہیں ہوگی، میں ان محاصل کے داخل خارج کو منضبط کر سکتا ہوں میں ان کے انتظام کی کیفیت کا پورا علم رکھتا ہوں۔ میں یہ بھی خوب جانتا ہوں کہ کسے عطا کرنا ہے کسے محروم رکھنا ہے اور ان میں تصرفات کی پوری طرح دیکھ بھال کر سکتا ہوں۔ یوسف علیہ السلام کی طرف سے اس عہدے کا مطالبہ، عہدے کی حرص کی وجہ سے نہ تھا بلکہ نفع عام میں رغبت کی وجہ سے تھا۔ یوسف علیہ السلام اپنے بارے میں اپنی کفایت اور حفظ و امانت کے متعلق جو کچھ جانتے تھے وہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ بنابریں یوسف علیہ السلام نے بادشاہ مصر سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں زمین کے محاصل کے خزانوں کے انتظام پر مقرر کر دے، چنانچہ بادشاہ نے انھیں زمین کے محاصل کے خزانوں کا والی اور منتظم مقرر کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال يوسف طلباً للمصلحة العامة: {اجعلْني على خزائن الأرض}؛ أي: على خزائن جبايات الأرض وغلالها وكيلاً حافظاً مدبِّراً. {إنِّي حفيظٌ عليمٌ}؛ أي: حفيظ للَّذي أتولاَّه؛ فلا يضيعُ منه شيءٌ في غير محلِّه، وضابطٌ للداخل والخارج، عليمٌ بكيفيَّة التدبير والإعطاء والمنع والتصرُّف في جميع أنواع التصرُّفات. وليس ذلك حرصاً من يوسف على الولاية، وإنما هو رغبةٌ منه في النفع العام، وقد عرف من نفسه من الكفاية والأمانة والحفظ ما لم يكونوا يعرفونه؛ فلذلك طلب من الملك أن يجعلَه على خزائن الأرض، فجعله الملك على خزائن الأرض وولاَّه إيَّاها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔