تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 56

وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنۡہَا حَیۡثُ یَشَآءُ ؕ نُصِیۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾
اور اسی طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف کو اقتدار عطا فرمایا، اس میں سے جہاں چاہتا جگہ پکڑتا تھا۔ہماپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں پہنچا دیتے ہیں اور ہم نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ En
اس طرح ہم نے یوسف کو ملک (مصر) میں جگہ دی اور وہ اس ملک میں جہاں چاہتے تھے رہتے تھے۔ ہم اپنی رحمت جس پر چاہتے ہیں کرتے ہیں اور نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
En
اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک کا قبضہ دے دیا۔ کہ وه جہاں کہیں چاہے رہے سہے، ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ ہم نیکو کاروں کا ﺛواب ضائع نہیں کرتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَؔكَذٰلِكَ اور اسی طرح یعنی ان مذکورہ اسباب اور مقدمات کے ذریعے سے ﴿ مَكَّـنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ ہم نے یوسف کو جگہ دی اس ملک میں، وہ اس میں جہاں چاہتے، جگہ پکڑتے وہ نہایت آسودہ زندگی، بے شمار نعمتوں اور بے پناہ جاہ و جلال میں رہنے لگے۔ ﴿ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ ہم اپنی رحمت جس کو چاہتے ہیں، پہنچا دیتے ہیں یوسف علیہ السلام پر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی جو اس نے ان کے لیے مقدر کر رکھی تھی جو صرف دنیاوی نعمتوں پر ہی مشتمل نہ تھی۔
﴿ وَلَا نُ٘ضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ اور ہم محسنین کا اجر ضائع نہیں کرتے اور یوسف علیہ السلام کا شمار تو سادات محسنین میں ہوتا ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت میں بھی بھلائی ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ آخرت کا اجر (دنیا کے اجر سے) بہتر ہے۔ ﴿ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَؔكَانُوْا یَتَّقُوْنَ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے یعنی جن لوگوں میں تقویٰ اور ایمان جمع ہے۔ پس تقویٰ کے ذریعے سے حرام امور، یعنی کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کو ترک کیا جاتا ہے اور ایمان کامل کے ذریعے سے ان امور میں تصدیق قلب حاصل ہوتی ہے جن امور کی تصدیق کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور فرض و مستحب، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، تصدیق قلب کی پیروی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى: {وكذلك}؛ أي: بهذه الأسباب والمقدّمات المذكورة، {مَكَّنَّا ليوسفَ في الأرض يتبوَّأ منها حيثُ يشاء}: في عيش رغدٍ ونعمة واسعةٍ وجاه عريض، {نصيبُ برحمتنا مَن نشاءُ}؛ أي: هذا من رحمة الله بيوسف التي أصابه بها وقدَّرها له، وليست مقصورةً على نعمة الدنيا. فإن الله لا يضيعُ أجر المحسنينَ، ويوسف عليه السلام من سادات المحسنين؛ فله في الدُّنيا حسنةٌ وفي الآخرة حسنةٌ، ولهذا قال: {ولأجرُ الآخرة خيرٌ} - من أجر الدُّنيا - {للذين آمنوا وكانوا يتَّقونَ}؛ أي: لمن جمع بين التقوى والإيمان؛ فبالتَّقوى تُتْرَكُ الأمور المحرمة من كبائر الذنوب وصغائرها، وبالإيمان التامِّ يحصُلُ تصديق القلب بما أمر الله بالتصديق به وتتبعُهُ أعمال القلوب وأعمال الجوارح من الواجبات والمستحبَّات.