اور بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لائو کہ میں اسے اپنے لیے خاص الخاص کر لوں، پھر جب اس نے اس سے بات کی تو کہا بلاشبہ تو آج ہمارے ہاں صاحب اقتدار، امانت دار ہے۔
En
بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔ پھر جب ان سے گفتگو کی تو کہا کہ آج سے تم ہمارے ہاں صاحب منزلت اور صاحبِ اعتبار ہو
بادشاه نے کہا اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کر لوں، پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ آپ ہمارے ہاں آج سے ذی عزت اور امانت دار ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب بادشاہ اور لوگوں کے پاس یوسف علیہ السلام کی کامل براء ت متحقق ہوگئی تو بادشاہ نے ان کو بلا بھیجا اور کہا: ﴿ ائْتُوْنِیْبِهٖۤاَسْتَخْلِصْهُلِنَفْسِیْ﴾”اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا۔“ یعنی میں اس کو مقربین خاص میں شامل کر لوں گا اسے میرے پاس نہایت عزت و احترام سے لے کر آؤ۔ ﴿فَلَمَّاكَلَّمَهٗ ﴾”پس جب اس نے ان سے گفتگو کی۔“ یعنی جب بادشاہ نے یوسف، سے گفتگو کی تو اسے ان کی باتیں اچھی لگیں اور اس کے ہاں ان کی وقعت اور زیادہ ہوگئی۔ اس نے یوسف علیہ السلام سے کہا: ﴿ اِنَّكَالْیَوْمَلَدَیْنَا ﴾”بے شک آپ آج ہمارے ہاں “﴿ مَكِیْنٌاَمِیْنٌ ﴾”صاحب منزلت اور صاحب اعتبار ہیں۔“ یعنی آپ ہمارے ہاں بلند مرتبہ کے مالک اور ہمارے رازوں کے امین ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما تحقق الملك والناس براءة يوسف التامَّة؛ أرسل إليه الملك، وقال: {ائتوني به أستَخْلِصْه لنفسي}؛ أي: أجعله خصيصة لي ومقرَّباً لديَّ. فأتَوه به مكرماً محترماً، {فلمَّا كلَّمه}؛ أعجبه كلامه، وزاد موقعُه عنده، فقال له: {إنَّك اليوم لدينا}؛ أي: عندنا {مكينٌ أمينٌ}؛ أي: متمكِّن أمينٌ على الأسرار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔