اور اس نے اس سے کہا جس کے متعلق اس نے سمجھا تھا کہ وہ دونوں میں سے رہا ہونے والا ہے کہ اپنے مالک کے پاس میرا ذکر کرنا۔ تو شیطان نے اسے اس کے مالک سے ذکر کرنا بھلا دیا تو وہ کئی سال قید خانے میں رہا۔
En
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
اور جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاه سے میرا ذکر بھی کر دینا، پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاه سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف نے کئی سال قیدخانے میں ہی کاٹے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَ ﴾ یعنی یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ لِلَّذِیْظَنَّاَنَّهٗنَاجٍمِّؔنْهُمَا ﴾”اس شخص سے جس کی بابت انھوں نے گمان کیا تھا کہ وہ بچے گا“ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب پلارہا ہے۔ ﴿ اذْكُرْنِیْعِنْدَرَبِّكَ﴾”اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کرنا“ یعنی اس کے پاس میرے قصے اور میرے معاملے کاذکر کرنا شاید وہ نرم پڑ جائے اور مجھے اس قید خانے سے نکال دے۔ ﴿ فَاَنْسٰىهُالشَّ٘یْطٰ٘نُذِكْرَرَبِّهٖ﴾”لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا۔“ یعنی قید سے نجات پانے والے اس شخص کو شیطان نے اللہ تعالیٰ کا ذکر فراموش کرا دیا۔ (فاضل مصنف کے برعکس اکثر مفسرین نے (ذکر ربہ) میں رب سے آقا، یعنی بادشاہ وقت مراد لیا ہے، یعنی نجات پانے والے کو شیطان نے بھلا دیا اور اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی خواہش کے مطابق بادشاہ سے آکر ان کے جیل میں محبوس رہنے کا ذکر نہیں کیا۔ (ص۔ ی)] اور نیز ہر اس چیز کو فراموش کرا دیا جو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا باعث تھی اور انھی چیزوں میں یوسف علیہ السلام کا تذکرہ بھی تھا جو اس چیز کے مستحق تھے کہ بہترین اور کامل ترین بھلائی کے ساتھ ان کو بدلہ دیا جاتا۔ یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کا حکم پورا ہو۔ ﴿ فَلَبِثَفِیالسِّجْنِبِضْ٘عَسِنِیْنَ ﴾”پس ٹھہرے رہے یوسف علیہ السلام جیل میں کئی سال“ (بضع) کا اطلاق تین سے لے کر نو تک کے عدد پر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سات برس تک قید میں رہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے چاہا کہ اس کا حکم پورا ہو اور یوسف علیہ السلام کو قید سے نکالنے کا اذن دے تو اس نے یوسف علیہ السلام کو قید سے نکالنے، ان کی شان بلند کرنے اور ان کی قدر و منزلت نمایاں کرنے کے لیے ایک سبب مقدر کر دیا… وہ تھا بادشاہ کا خواب دیکھنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وقال} يوسفُ عليه السلام {للذي ظنَّ أنَّه ناج منهما}: وهو الذي رأى أنه يعصِرُ خمراً: {اذْكُرْني عند ربِّك}؛ أي: اذكر له شأني وقصَّتي لعله يَرقُّ لي فيخرجني مما أنا فيه، {فأنساه الشيطانُ ذِكْرَ ربِّه}؛ أي: فأنسى الشيطان ذلك الناجي ذكر الله تعالى وذكر ما يُقَرِّبُ إليه ومن جملة ذلك نسيانه ذِكْرَ يوسف الذي يستحقُّ أن يُجازى بأتمِّ الإحسان، وذلك ليتمَّ الله أمره وقضاءه. {فلَبِثَ في السجن بضعَ سنين}: والبضع من الثلاث إلى التسع، ولهذا قيل: إنه لبث سبع سنين.
ولما أراد الله أن يُتِمَّ أمره ويأذن بإخراج يوسف من السجن؛ قدَّر لذلك سبباً لإخراج يوسف وارتفاع شأنه وإعلاء قَدْره وهو رؤيا الملك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔