اے قید خانے کے دو ساتھیو! تم میں سے جو ایک ہے سو وہ اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے سو اسے سولی دی جائے گی، پس پرندے اس کے سر میں سے کھائیں گے۔ اس کام کا فیصلہ کر دیا گیا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو۔
En
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
اے میرے قیدخانے کے رفیقو! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاه کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا، لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کھائیں گے، تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کردیا گیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس یوسف علیہ السلام نے قید کے دونوں ساتھیوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور اخلاص کی طرف دعوت دی تو یہ احتمال بھی ہے کہ ان دونوں ساتھیوں نے یوسف علیہ السلام کی دعوت قبول اور آپ کی اطاعت اختیار کر لی ہو اور اللہ کی نعمت کا ان پر اتمام ہو گیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے شرک پر جمے رہے ہوں اور ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہو، پھر یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کے مطابق ان کے خوابوں کی تعبیر بتانا شروع کی۔ فرمایا: ﴿یٰصَاحِبَیِالسِّجْنِاَمَّاۤاَحَدُكُمَا ﴾”میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک۔“ یہ وہ شخص تھا جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب نکال رہا ہے۔ اس کے بارے میں یوسف علیہ السلام نے بتایا کہ وہ قید سے آزاد ہوگا ﴿فَ٘یَسْقِیْرَبَّهٗخَمْرًا﴾”پس وہ اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔“ یعنی وہ اپنے آقا کو جس کی وہ خدمت کیا کرتا تھا شراب پلائے گا اور یہ تعبیر اس کے قید سے نکلنے کو مستلزم تھی۔ ﴿وَاَمَّاالْاٰخَرُ ﴾”رہا دوسرا قیدی“ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہے اور پرندے روٹیاں کھا رہے ہیں ﴿فَیُصْلَبُفَتَاْكُ٘لُالطَّیْرُمِنْرَّاْسِهٖ﴾”وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھاجائیں گے۔“ یوسف علیہ السلام نے روٹیاں سر پر اٹھانے کی جن کو پرندے کھا رہے ہوں، یہ تعبیر بتلائی کہ اس کا سر قلم کیا جائے گا۔ اس کے سر کا گوشت، چربی اور مغز جدا کیے جائیں گے، اس کو دفن نہیں کیا جائے گا اور نہ اسے پرندوں سے بچایا جائے گا بلکہ اسے ایسی جگہ صلیب پر لٹکایا جائے گا جہاں پرندے اس کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ جناب یوسف علیہ السلام نے آگاہ فرمایا کہ خواب کی یہ تعبیر جو انھوں نے ان کو بتائی ہے، پوری ہو کر رہے گی۔ فرمایا ﴿قُ٘ضِیَالْاَمْرُالَّذِیْفِیْهِتَسْتَفْتِیٰنِ﴾”جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے، اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔“ یعنی جس معاملے کی تعبیر و تفسیر کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے اس کا فیصلہ ہو چکا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم إنه عليه السلام شَرَعَ يعبر رؤياهما بعدما وعدهما ذلك، فقال: {يا صاحبي السجن أما أحَدُكُما}: وهو الذي رأى أنه يعصِرُ خمراً؛ فإنَّه يخرج من السجن، ويسقي {ربَّه خمراً}؛ أي: يسقي سيده الذي كان يخدمه خمراً، وذلك مستلزم لخروجه من السجن. {وأما الآخر}: وهو الذي رأى أنَّه يحمل فوق رأسه خبزاً تأكل الطير منه، {فيُصْلَبُ فتأكلُ الطير من رأسه}: فإنَّه عبر عن الخبز الذي تأكله الطير بلحم رأسه وشحمه وما فيه من المخِّ، وأنَّه لا يقبر ويستر عن الطيور، بل يُصلب ويُجعل في محلٍّ تتمكَّن الطيور من أكله، ثم أخبرهما بأنَّ هذا التأويل الذي تأوَّله لهما أنَّه لا بدَّ من وقوعه، فقال: {قُضِيَ الأمرُ الذي فيه تستفتيان}؛ أي: تسألان عن تعبيره وتفسيره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔