اور قید خانے میں اس کے ساتھ دو جوان داخل ہوئے، دونوں سے ایک نے کہا بے شک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ کچھ شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا بے شک میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر کچھ روٹی اٹھائے ہوئے ہوں، جس سے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں اسکی تعبیر بتا۔ بے شک ہم تجھے احسان کرنے والوں سے دیکھتے ہیں۔
En
اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی داخل زندان ہوئے۔ ایک نے ان میں سے کہا کہ (میں نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ شراب (کے لیے انگور) نچوڑ رہا ہوں۔ دوسرے نے کہا کہ (میں نے بھی خواب دیکھا ہے) میں یہ دیکھتا ہوں کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور جانور ان میں سے کھا رہے (ہیں تو) ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجیئے کہ ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں
اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے، اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتایئے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَدَخَلَمَعَهُالسِّجْنَفَتَیٰنِ﴾”اور ان کے ساتھ دو اور جوان بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔“ جب یوسف علیہ السلام قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کیے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انھوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسف علیہ السلام کو سنایا ﴿ قَالَاَحَدُهُمَاۤاِنِّیْۤاَرٰىنِیْۤاَعْصِرُخَمْرًا١ۚوَقَالَالْاٰخَرُاِنِّیْۤاَرٰىنِیْۤاَحْمِلُفَوْقَرَاْسِیْخُبْزًا﴾”ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں “ اور یہ روٹی ﴿ تَاْكُ٘لُالطَّیْرُمِنْهُ﴾”پرندے کھا رہے ہیں۔“﴿ نَبِّئْنَابِتَاْوِیْلِهٖ٘﴾”ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجیے۔“ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کہا: ﴿ اِنَّانَرٰىكَمِنَالْمُحْسِنِیْنَ ﴾”بے شک ہم آپ کو بھلائی کرنے والا دیکھتے ہیں “ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انھوں نے یوسف علیہ السلام کے احسان کو وسیلہ بنایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {و} لما دخل يوسف السجن؛ كان في جملة من {دخل معه السجنَ فتيانِ}؛ أي: شابان، فرأى كلُّ واحدٍ منهما رؤيا، فقصَّها على يوسف ليعبرها، {قال أحدُهما إني أراني أعصِرُ خمراً، وقال الآخرُ إنِّي أراني أحمل فوقَ رأسي خبزاً}: وذلك الخبز {تأكُلُ الطيرُ منه نبِّئْنا بتأويلِهِ}؛ أي: بتفسيره وما يؤول إليه أمرهما. وقولهما: {إنا نراك من المحسنين}؛ أي: من أهل الإحسان إلى الخلق؛ فأحسِنْ إلينا في تعبيرك لرؤيانا كما أحسنتَ إلى غيرنا، فتوسَّلا ليوسف بإحسانه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔