تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 35

ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿٪۳۵﴾
پھر اس کے بعد کہ وہ کئی نشانیاں دیکھ چکے، ان کے سامنے یہ بات آئی کہ اسے ایک وقت تک ضرور ہی قید کر دیں۔ En
پھر باوجود اس کے کہ وہ لوگ نشان دیکھ چکے تھے ان کی رائے یہی ٹھہری کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید ہی کردیں
En
پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہے ان کے آقا تو جب یہ خبر مشہور ہوئی اور بات کھل گئی تو لوگوں میں سے کسی نے ان کو معذور سمجھا، کسی نے ملامت کی اور کسی نے جرح و قدح کی۔ ﴿ بَدَا لَهُمْ ان پر ظاہر ہوا۔ ﴿ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد جو یوسف علیہ السلام کی براء ت پر دلالت کرتی تھیں ﴿ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ کہ ایک وقت تک ان کو قید میں رکھیں تاکہ اس طرح خبر منقطع ہو جائے اور لوگ اس واقعہ کو بھول جائیں کیونکہ جب کوئی خبر شائع ہو جاتی ہے تو اس کا ذکر عام ہونے لگتا ہے اور وجود اسباب کے باعث یہ خبر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ جب اسباب معدوم ہو جاتے ہیں تو اس واقعہ کو بھلا دیا جاتا ہے… چنانچہ انھوں نے اس میں یہی مصلحت دیکھی اور یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما أسيادُه؛ فإنَّه لما اشتهر الخبر وبان وصار الناس فيها بين عاذرٍ ولائم وقادح، {بدا لهم}؛ أي: ظهر لهم {من بعد ما رأوا الآيات}: الدالَّة على براءته، {لَيَسْجُنُنَّه حتى حين}؛ أي: لينقطع بذلك الخبر ويتناساه الناس؛ فإنَّ الشيء إذا شاع؛ لم يزلْ يذكر، ويشاع مع وجود أسبابه؛ فإذا عدمت أسبابه؛ نُسِي، فرأوا أنَّ هذا مصلحة لهم، فأدخلوه في السجن.