تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 37

قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اس نے کہا تمھارے پاس وہ کھانا نہیں آئے گا جو تمھیں دیا جاتا ہے، مگر میں تمھیں اس کی تعبیر اس سے پہلے بتا دوں گا کہ وہ تمھارے پاس آئے۔ یہ اس میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا۔ بے شک میں نے اس قوم کا دین چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے ساتھ بھی کفر کرنے والے ہیں۔ En
یوسف نے کہا کہ جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو اس کی تعبیر بتادوں گا۔ یہ ان (باتوں) میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے سکھائی ہیں جو لوگ خدا پر ایمان نہیں لاتے اور روز آخرت سے انکار کرتے ہیں میں ان کا مذہب چھوڑے ہوئے ہوں
En
یوسف ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا۔ یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو مجھے میرے رب نے سکھایا ہے، میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ یوسف علیہ السلام نے ان کی درخواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَا یَ٘اْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ٘ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔ یعنی تمھیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمھارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمھیں تمھارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔
شاید یوسف علیہ السلام یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں، جبکہ ان قیدیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی حاجت محسوس کی وہ ان قیدیوں کو ایمان کی دعوت دیں تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لیے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہو، پھر یوسف علیہ السلام سے فرمایا: ﴿ذٰلِكُمَا یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں کو بتاؤں گا ﴿ مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے۔ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا اور وہ احسان یہ ہے ﴿اِنِّیْ تَرَؔكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَؔ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ میں نے اس قوم کا دین چھوڑا جو اللہ پر یقین نہیں رکھتی اور وہ آخرت کے منکر ہیں (ترک) کا اطلاق جس طرح اس داخل ہونے والے پر ہوتا ہے جو داخل ہونے کے بعد وہاں سے منتقل ہو جاتا ہے اسی طرح اس شخص پر بھی ہوتا ہے جو اصلاً اس میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس سے پہلے یوسف علیہ السلام ملت ابراہیم علیہ السلام کے علاوہ کسی اور ملت پر تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قَالَ} لهما مجيباً لطلبهما: {لا يأتِيكما طعامٌ ترزقانِهِ إلاَّ نبأتُكما بتأويله قبلَ أن يأتيكما}؛ أي: فلتطمئنَّ قلوبُكما فإني سأبادر إلى تعبير رؤياكما، فلا يأتيكما غداؤكما أو عشاؤكما أول ما يجيء إليكما؛ إلاَّ نبأتُكما بتأويله قبل أن يأتِيكما، ولعلَّ يوسف عليه الصلاة والسلام قصد أن يدعوهما إلى الإيمان في هذه الحال التي بَدَتْ حاجتُهما إليه؛ ليكون أنجعَ لدعوته وأقبل لهما. ثم قال: {ذلِكما}: التعبير الذي سأعبره لكما، {مما علَّمني ربي}؛ أي: هذا من علم الله علَّمنيه وأحسن إليَّ به. وذلك {إنِّي تركتُ مِلَّة قوم لا يؤمنون بالله وهم بالآخرة هم كافرونَ}: والترك كما يكون للداخل في شيء ثم ينتقل عنه يكون لمن لم يدخُلْ فيه أصلاً؛ فلا يُقال: إنَّ يوسف كان من قبلُ على غير ملَّة إبراهيم.