تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 34

فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾
تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی، پس اس سے ان (عورتوں) کا فریب ہٹا دیا۔ بے شک وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
تو خدا نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے عورتوں کا مکر دفع کر دیا۔ بےشک وہ سننے (اور) جاننے والا ہے
En
اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ اس سے پھیر دیے، یقیناً وه سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی۔ جب یوسف علیہ السلام نے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا ﴿ فَصَرَفَ عَنْهُؔ كَیْدَهُنَّ پس ان سے ان عورتوں کا فریب پھیر دیا وہ عورت جناب یوسف علیہ السلام پر ڈورے ڈال کر ان کو اپنے دام فریب میں پھانسنے کی کوشش کرتی رہی اور اس سلسلے میں وہ تمام وسائل استعمال کرتی رہی جو اس کی قدرت و اختیار میں تھے۔ یہاں تک کہ یوسف علیہ السلام نے اس کو مایوس کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مکر و فریب کو یوسف علیہ السلام سے رفع کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ اللہ تعالیٰ دعا مانگنے والے کی دعا کو سنتا ہے ﴿الْعَلِیْمُ اور اس کی نیک نیت اور کمزور نیت کو خوب جانتا ہے جو اس کی مدد، معاونت اور اس کے لطف و کرم کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ دعا تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف علیہ السلام کو اس فتنہ اور بہت بڑی آزمائش سے نجات دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاستجابَ له ربُّه}: حين دعاه، {فصرف عنه كَيْدَهُنَّ}: فلم تزلْ تراوِدُه وتستعين عليه بما تقدِرُ عليه من الوسائل حتى أيَّسَها وصَرَفَ الله عنه كيدها. {إنَّه هو السميع}: لدعاء الداعي، {العليمُ}: بنيَّته الصالحة وبنيَّته الضعيفة المقتضية لإمداده بمعونته ولطفه، فهذا ما نجَّى اللهُ به يوسفَ من هذه الفتنة الملمَّة والمحنة الشديدة.