اس نے کہا اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ سب مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا اور جاہلوں سے ہو جاؤں گا۔
En
یوسف نے دعا کی کہ پروردگار جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے۔ اور اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو نہ ہٹائے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور نادانوں میں داخل ہوجاؤں گا
یوسف نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں تو ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
تب یوسف علیہ السلام نے اپنے رب سے پناہ مانگی اور ان عورتوں کے مکر و فریب کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے ﴿ قَالَرَبِّالسِّجْنُاَحَبُّاِلَیَّمِمَّایَدْعُوْنَنِیْۤاِلَیْهِ﴾”انھوں نے کہا، اے رب! مجھے قید اس سے زیادہ پسند ہے جس طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں “ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی مالکہ کا حکم مانیں اور ان عورتوں نے یوسف علیہ السلام کو فریب سے پھسلانا شروع کر دیا تھا۔ اس لیے یوسف علیہ السلام نے اس لذت کے مقابلے میں، جو اخروی عذاب کی موجب ہے، قید خانے اور دنیاوی عذاب کو پسند کیا۔
﴿ وَاِلَّاتَصْرِفْعَنِّیْؔكَیْدَهُنَّاَصْبُاِلَ٘یْهِنَّ ﴾”اور اگر تو نے ان عورتوں کی چالوں اور مکر و فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو کر ان کے دام میں پھنس جاؤں گا“ کیونکہ میں تو ایک عاجز اور کمزور بندہ ہوں ﴿ وَاَكُ٘نْمِّنَالْجٰؔهِلِیْ٘نَ ﴾”اور میں جاہلوں سے ہو جاؤں گا“ کیونکہ یہ سب جہالت کا کام ہے کیونکہ جاہل ختم ہو جانے والی قلیل لذت کو جنت میں حاصل ہونے والی دائمی لذات اور انواع و اقسام کی شہوات پر ترجیح دیتا ہے اور جو دنیا کی اس لذت کو جنت کی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے اس سے بڑھ کر جاہل کون ہے؟ علم و عقل ہمیشہ بڑی مصلحت اور دائمی لذت کو مقدم رکھنے اور ان امور کو ترجیح دینے کی دعوت دیتے ہیں جن کا انجام قابل ستائش ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فعند ذلك اعتصم يوسف بربِّه، واستعان به على كيدهِنَّ و {قال ربِّ السجنُ أحبُّ إليَّ مما يدعونني إليه}: وهذا يدلُّ على أن النسوة جعلن يُشِرْن على يوسف في مطاوعة سيدته، وجعلن يَكِدْنَه في ذلك، فاستحبَّ السجن والعذاب الدنيويَّ على لذَّة حاضرة توجب العذاب الشديد. {وإلاَّ تصرِفْ عنِّي كيدَهُنَّ أصبُ إليهنَّ}؛ أي: أَمِل إليهنَّ؛ فإني ضعيفٌ عاجز إن لم تدفعْ عنِّي السوء؛ صبوتُ إليهنَّ، {وأكن من الجاهلينَ}: فإنَّ هذا جهلٌ؛ لأنَّه آثر لذَّة قليلة منغَّصة على لذات متتابعات وشهوات متنوعات في جنات النعيم، ومَنْ آثر هذا على هذا؛ فمن أجهلُ منه؟! فإنَّ العلم والعقل يدعو إلى تقديم أعظم المصلحتين وأعظم اللذَّتين، ويؤثِرُ ما كان محمودَ العاقبة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔